اسرائیل کو اسلحہ دینے کی مخالفت کرنے والے فلسطین سالیڈیرٹی گروپ پر جرمنی میں پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی میں حکام نے جرمنی کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کے خلاف آواز بلند کرنے اور فلسطینیوں اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت کرنے کا الزام لگا کر جمعرات کے روز ایک گروپ پر پابندی لگا دی ہے۔

جرمن پولیس نے فلسطینیوں کے حق میں رائے رکھنے اور اسرائیل کو جنگ کے لیے اسلحہ نہ دینے کا مطالبہ کرنے والے اس گروپ کے ارکان سے آلات اور دستاویزات برآمد اور ضبط کرنے کے لیے ان کی املاک پر چھاپے مارے ہیں۔ پابندی کی زد میں آنے والے گروپ کا نام فلسطین سالیڈیرٹی ڈوئسبرگ بتایا گیا ہے۔

جرمنی میں نارتھ ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ ہربرٹ ریول نے اس بارے میں کہا ہے ' فلسطین سالیڈیریٹی ' گروپ کئی بار اپنے اجلاسوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسرائیل مخالف اور سام دشمن عالمی نظریے کا پرچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔'

انہوں نے بتایا لگ بھگ 50 پولیس افسروں نے شمال مغربی ریاست میں چھاپے مار کر جائیدادوں کی تلاشی لی۔ نیز لیپ ٹاپ، نقدی، سیل فون اور دستاویزات ضبط کر لیے ہیں۔

تاہم جب فلسطین سولیڈیریٹی سے اس بارے میں تبصرہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گروپ کی طرف سے فوری طور پر کوئی دستیاب نہیں تھا۔

وزیر داخلہ کے مطابق فلسطینیوں کی جرمنی میں رہتے ہوئے اس گروپ کو مئی 2023 سے حکام جانتے تھے۔ اس نے غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا ور جرمن حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کو اسلحہ نہ دیا جائے۔

اس گروپ نے جرمن اسلحہ ساز کمپنی رین میٹل کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ایک ریلی کا اہتمام کیاتھا اور مطالبہ کیا تھاکہ اسرائیل کو اسلحہ دیا جائے۔ یاد رہے اسرائیل نے غزہ کی جنگ میں اب تک لگ بھگ 335334 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ گروپ اسی لیے اسرائیل کو مزید اسلحہ دینے کآ مخالف ہے۔ اب اس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جرمن حکومت نے گزشتہ سال سے فلسطین کے گروپ حماس کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔اس پر کئی یورپی ملک اور امریکہ بھی پابندی لگا چکے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں