اسرائیل کو فٹبال میچوں سے معطل کرنے کی فلسطینی تجویز،فیفاکاقانونی مشورہ لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین نے حماس کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے اسرائیل کو بین الاقوامی فٹ بال سے معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس پر فیصلہ کرنے کی غرض سے فیفا 25 جولائی تک کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے انعقاد سے قبل آزاد قانونی مشورہ طلب کرے گا۔

فلسطین اور اسرائیل کی فٹ بال فیڈریشنز کے نمائندگان کو 211 رکن ایسوسی ایشنز کے سامنے بولنے کا موقع ملا جس کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو نے جمعہ کو فیفا کانگریس میں اس منصوبے کا خاکہ پیش کیا۔

انفینٹینو نے کہا، "فیفا (فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن کی طرف سے) تین درخواستوں کا تجزیہ کرنے اور فیفا کے قوانین کے درست طریقے سے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ آزاد قانونی مہارت کو لازمی قرار دے گا۔ اس قانونی جائزے کو دونوں رکن ایسوسی ایشنز کے دعووں کی اجازت دینی ہوگی۔ نتائج اور سفارشات فیفا کونسل کو بھیج دیئے جائیں گے۔"

نیز انہوں نے کہا، "صورتِ حال کی عجلت کی وجہ سے ایک غیر معمولی فیفا کونسل بلائی جائے گی اور 25 جولائی سے پہلے ہو گی جو قانونی جائزے کے نتائج کی جانچ پڑتال اور مناسب فیصلے کرنے کے لیے منعقد کی جائے گی۔"

بنکاک میں کانگریس اور کونسل کے اجلاس سے ایک ماہ قبل جاری ہونے والی فیفا دستاویزات کے مطابق فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن کی تجویز میں 211 رکن فیڈریشنز سے مطالبہ کیا گیا کہ "اسرائیلی ٹیموں کے خلاف فوری طور پر مناسب پابندیاں عائد کی جائیں۔"

اس تحریک میں "فلسطین بالخصوص غزہ پر اسرائیلی قبضے کی وجہ سے ہونے والی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں" کا ذکر کیا گیا اور انسانی حقوق اور امتیازی سلوک کے خلاف فیفا کے قانونی وعدوں کا حوالہ دیا گیا۔

فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن نے لکھا ہے کہ "غزہ میں فٹ بال کا تمام ڈھانچہ یا تو تباہ ہو چکا ہے یا اسے شدید نقصان پہنچا ہے جس میں ال یرموک کا تاریخی سٹیڈیم بھی شامل ہے" اور کہا کہ اسے اس تحریک کے لیے الجزائر، عراق، اردن، شام اور یمن کی فٹ بال فیڈریشنز کی حمایت حاصل تھی۔

جمعے کے روز بنکاک میں ہونے والی کانگریس میں فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن کے رہنما جبریل رجوب نے کہا، "فلسطینی عوام بشمول فلسطین فٹ بال خاندان ایک بے مثال انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔"

راجوب نے کہا کہ انہیں پابندیوں کی تجویز کی وجہ سے دھمکیاں دی گئیں۔

انہوں نے کہا، "اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے یہ تجویز واپس نہ لینے کی صورت میں مجھے قید کرنے کی سنگین دھمکیاں دی ہیں لیکن دنیا کی کوئی طاقت حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں