غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے: مغربی ممالک کا اسرائیل پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مغربی ممالک کے ایک گروپ نے ایک خط میں اسرائیلی حکومت کو لکھا، اسرائیل کو غزہ میں بین الاقوامی قانون کی تعمیل اور فلسطینی علاقے میں تباہ کن انسانی بحران حل کرنا چاہیے۔

رائیٹرز کے ملاحظہ کردہ ایک خط میں امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ، ہالینڈ، ڈنمارک، سویڈن اور فن لینڈ کے ساتھ گروپ آف سیون (جی سیون) سے تعلق رکھنے والے تمام بڑے جمہوری ممالک نے اس خط پر دستخط کیے ہیں۔

پانچ صفحات پر مشتمل یہ خط اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج حماس کے خاتمے کے لیے اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر غزہ کے جنوبی شہر رفح پر ان انتباہات کے باوجود حملہ آور ہیں کہ اس کے نتیجے میں ایسے علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا ہے جہاں بے گھر شہریوں کو پناہ ملی ہے۔

خط میں سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے لیے "غصے" کا اعادہ کیا گیا جس کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوا۔ اور کہا گیا، "اپنے حقِ دفاع کو بروئے کار لاتے ہوئے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین بشمول بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔"

اسرائیل نے انسانی امداد کو روکنے کی تردید کی اور کہا ہے کہ اسے اپنے تحفظ کے لیے حماس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

مغربی ممالک نے "رفح میں مکمل فوجی آپریشن" کی مخالفت کی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "رفح کی ایک راہداری سمیت تمام متعلقہ مقامات کے ذریعے" انسانی امداد کو آبادی تک پہنچنے دے۔

امداد کی روانی کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے "مخصوص، ٹھوس اور قابلِ پیمائش اقدامات" کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے، "اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایک شدت کی حامل فوجی کارروائی سے تقریباً 1.4 ملین افراد متأثر ہوں گے۔"

خط میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے کئی مسائل کو حل کرنے میں پیش رفت کی ہے جن میں مزید امدادی ٹرکوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے کی اجازت، شمالی غزہ میں ایریز کراسنگ کو دوبارہ کھولنا اور جنوبی اسرائیل میں اشدود بندرگاہ کا عارضی استعمال شامل ہیں۔

لیکن اس میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت سے مزید کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں "پائیدار جنگ بندی" کے لیے کام کرنا، مزید انخلاء کو آسان بنانا اور "بجلی، پانی اور ٹیلی مواصلات کی خدمات" کی بحالی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں