مصرمیں بچوں کی پہلی حجام ماجدہ حسنی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حجام کے پیشے میں زیادہ تر مردوں کا غلبہ رہا ہے مگرمصرمیں ایک خاتون نے پہلی بار مردوں کے لیے خاص پیشہ اختیارکرکے نئی روایت ڈالی ہے۔

تمام تر محبت اور چیلنج کے ساتھ بالائی مصر میں ایک خاتون نے ایک ایسے میدان میں قدم رکھا جس پر برسوں سے مردوں کا غلبہ تھا۔

مسز ماجدہ میلاد حسنی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ وہ اسیوط میں حجام کے پیشے میں کام کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ انہیں ساری زندگی ہیئر ڈریسنگ کا شوق تھا، لیکن ان کا یہ شوق صرف خواتین تک محدود رہا، مگراب اس نے بچوں کو اس میں شامل کرلیاہے۔

مسز ماجد مزید کہتی ہیں: مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا اور میں نے حجامہ کے کورسز کیے اور اس پیشے میں مہارت حاصل کر لی، مجھے یہ بہت پسند تھا، اور میں نے بچوں کے لیے حجام کا کام کرنے کا سوچا"۔

ماجدہ کے ننھے منے  کلائٹ میں سے ایک

انہوں نے کہاکہ "میں نے دراصل 16 سال کی عمر میں کام کرنا شروع کیا تھا اور میں نے خواتین کے ہیئر ڈریسر کے طور پر کام کرنے کے علاوہ بچوں کے ہیئر ڈریسر کے طور پر بھی کام کیا تھا"۔

اس نے بتایا کہ مصر بالخصوص اسیوط میں وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے بچوں کی حجامت کا کام شروع کیا۔

ماجدہ حجام کے پیشے کو ایک فن کے طور پر دیکھتی ہیں۔ کیونکہ وہ بچے کے بالوں کو بہترین اور خوبصورت بنانے کے لیے کام کرتی ہے جو اس کے لیے موزوں ہے۔

انہوں کہا کہ اس کے بارے میں پیار اور فخر کے ساتھ کہتی ہوں "مجھے بہت فخر ہے کہ میں اپنے گاہکوں کی گواہی کے مطابق بچوں کے لیے بہترین ہیئر ڈریسر ہوں، اور میں اپنا کام جاری رکھوں گی اور بچوں اور خواتین کا ہیئر ڈریسر کے طور پرکام جاری رکھوں گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں