کولمبیا یونیورسٹی کی مصری نژاد صدر اعتماد کا ووٹ ہار گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل جمعرات کو کولمبیا یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز کے فیکلٹی ممبران نے یونیورسٹی کی صدر مصری نژاد نعمت (مینوش) شفیق سے اعتماد واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔

اس اقدام سےظاہر ہوتا ہے کہ ادارے کے اندر چند لوگوں کی طرف سے محسوس کیے جانے والے "عدم اطمینان" کی عکاسی ہوتی ہے۔ جرمن ڈی پی اے ایجنسی کے مطابق یونیورسٹی نے حال ہی میں کانگریس کے سامنے دی گئی گواہی اور فلسطینی طلباء کے مظاہروں سے نمٹنے کا طریقے نعمت مینوش کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک شروع کی تھی۔

امریکی نیوز سائٹ 'ایکسیس' کے مطابق نعمت مینوش شفیق نے 17 اپریل کو ریپبلکن کی زیرقیادت کانگریس کی کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی میں۔ انہوں نے یہود دشمنی کی بڑھتی ہوئی رپورٹوں پر یونیورسٹی کے ردعمل پر توجہ دلائی۔ اس کے بعد فلسطینیوں کی حمایت احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس حرکت میں آئی اور نیویارک پولیس نے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا، جس کے بعد اگلے دنوں میں مزید طلباء کو گرفتار کیا گیا۔

61 سالہ مینوش شفیق پر عدم اعتماد کا ووٹ تعلیمی آزادی کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی اور طلباء کے حقوق پر اس کے بے مثال حملےکے لیے لیا گیا۔

ووٹنگ میں حصہ لینے والے 709 فیکلٹی ممبران میں سے 65 فی صد نے اعتماد واپس لینے کے فیصلے کی حمایت کی۔ 29 فی صد نے اس کے خلاف ووٹ دینے سے گریز کیا۔

رائے شمار کا اہتمام امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز سے منسلک یونیورسٹی کی ایک شاخ نے کیا، جو کہ فیکلٹی ممبران کے لیے ایک پیشہ ورانہ تنظیم ہے۔ یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 4,600 میں سے صرف 900 فیکلٹی ممبران نے ووٹ میں حصہ لیا، جس کا مطلب ہے کہ 80 فی صد ووٹوں کی نمائندگی نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں