جنگ اور صیہونیت مخالف اسرائیلی مؤرخ سے امریکہ میں پوچھ گچھ

عرب دوستوں کے بارے میں بھی سوال و جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنگ اور صیہونیوں کے مخالف سمجھے جانے والے اسرائیلی مؤرخ ایلان پاپے کو امریکی ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ان سے دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا۔ تاہم انہیں بعد ازاں ایک فون کال پر کچھ ہدایات ملنے پر چھوڑ دیا۔

امریکہ میں ایک پروفیسر کو قتل کے مقدمے کے لیے عدالت کی طرف سے جنوبی کیلیفورنیا میں نامزد کیے جانے سے محض ایک دن پہلے اس مؤرخ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ امریکی پروفیسر پر بھی الزام ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا مخالف ہے اور اس نے ایک ایسے جنگ مخالف مظاہروں میں شرکت کی جس میں ایک 69 سالہ یہودی کی ہلاکت ہو گئی تھی۔ اب امریکی پروفیسر قتل کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں کہ یہودی کی ہلاکت کے موقع پر ان کے ہاتھ میں میگا فون تھا۔

اسرائیلی مؤرخ نے امریکی ایئرپورٹ پر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کے ذریعے ظاہر کیا ہے۔ تاہم کسی امریکی میڈیا ہاؤس نے بدھ کے روز تک اسے رپورٹ نہیں کیا تھا۔

ایلان پاپے کے مطابق دو گھنٹے کی اس پوچھ گچھ کے دوران ان سے ان کا فون بھی چھین لیا گیا۔ نیز ان کے پاس جو بھی تحریری مواد پر مبنی نقول تھیں وہ بھی لے لی گئیں اور یہ پوچھا جاتا رہا کہ وہ صیہونیت کے ایجنڈے کے خلاف ہیں تو کیا وہ حماس کے حامی بھی ہیں۔ اور کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ایف بی آئی کے پوچھ گچھ کرنے والے افسروں نے اس دوران ان سے یہ بھی پوچھا کہ اس تصادم سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ نیز سوال کیا جاتا رہا کہ ان کے عرب لوگوں میں کون کون سے لوگ دوست ہیں اور اس دوستی کی نوعیت کتنی پرانی اور گہری ہے۔ اس پوچھ گچھ کے بعد ایف بی آئی حکام نے اسرائیل میں کسی سے فون پر بات کی اور پھر انہیں جانا دیا۔

ایلان پاپے نے اپنی اس پوچھ گچھ کے لیے کی جانے والی اس مختصر حراست کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے 'میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سوں کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ جب گلاسگو یونیورسٹی کے ریکٹر کو فرانس اور جرمنی میں داخلے سے اس لیے انکار ہوگیا کہ وہ ایک فلسطینی ہیں۔ ڈاکٹر غسان ابو ستہ کو تقریباً دو ہفتے قبل ایک لیکچر دینے کے سلسلے میں جرمنی جانا تھا لیکن ان کو جرمنی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے جرمنی میں داخلے پر پابندی ہے۔'

ایلان پاپے نے مزید کہا 'جب برطانیہ کے شہریوں کو یورپ میں داخلے سے روکا جائے گا تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت یورپ میں کیا چل رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ کہہ کر 'ایک اچھی خبر' دی کہ ان سے پوچھ گچھ اور ڈاکٹر غسان ابو ستہ کے یورپی ملکوں میں داخلے پر پابندی جیسے واقعات اسرائیل کے خؤف و ہراس اور مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں