اسرائیل کو رفح پر حملہ کیے بغیر حماس کے ارکان کا تعاقب کرنے کا حق ہے: امریکہ

جنگ کے بعد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کی حمایت کرتے ہیں: جان کربی کی ’’العربیہ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے سٹریٹجک کمیونیکیشنز کوآرڈینیٹر جان کربی نے واشنگٹن میں العربیہ اور الحدث چینلز کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے رفح میں کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کی مخالفت کرتا ہے۔ کربی نے کہا اسرائیل کو حماس کے ارکان کا تعاقب کرنے کا حق حاصل ہے لیکن رفح میں ایسے کسی حملے کے بغیر جو ہزاروں شہریوں کی موت کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں۔

امداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کربی نے کہا کہ عارضی بندرگاہ کے ذریعے امداد کی غزہ کو ترسیل کا عمل بین الاقوامی ہم آہنگی سے کیا جائے گا۔ غزہ میں زمین پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہو گا۔ امداد بھیجنے سے پہلے قبرص میں اس کا معائنہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیلی آباد کاروں اور انتہا پسندوں کی طرف سے امدادی قافلوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ امریکی انتظامیہ اسرائیل پر غزہ کو اضافی امداد فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایک اور تناظر میں جان کربی نے یہ بھی کہا واشنگٹن جنگ کے بعد کے دور میں غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ 13 مغربی ملکوں، جن میں سے اکثر روایتی طور پر اسرائیل کے حامی ہیں، نے رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی ہم منصب یسرائیل کاٹز کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ ہم رفح میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس حملے کے عام شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

دستخط کرنے والے ملکوں میں آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا کے علاوہ یورپی یونین کے رکن ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ اور سویڈن شامل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل مسلسل رفح پر اپنے حملے کو تیز کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں