العربیہ خصوصی رپورٹ

امدادی قافلوں پر آباد کاروں کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں: جان کربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے غزہ کے لیے امداد لانے والے قافلوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے جان کربی نے کہا کہ امریکہ رفح میں کسی بھی بڑے پیمانے پر اسرائیلی فوجی آپریشن کی مخالفت کرتا ہے۔ کربی نے امدادی قافلوں پر حملہ کرنے والے اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی۔

کربی کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کو حماس کے ارکان کا تعاقب کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن رفح میں ایسے حملے کے بغیر جو ہزاروں شہریوں کی موت کا باعث بنے"۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں۔

امداد کے بارے میں کربی نے کہا کہ "عارضی بندرگاہ کے ذریعے امداد کی لینڈنگ کا عمل بین الاقوامی ہم آہنگی سے کیا جاتا ہے۔ غزہ میں زمین پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہو گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امداد بھیجنے سے پہلے قبرص میں اس کا مکمل معائنہ کیا جاتا ہے‘‘۔

کان کربی نے کہا کہ اسرائیلی آباد کاروں اور انتہا پسندوں کی طرف سے امدادی قافلوں پر حملوں کی امریکہ کی شدید مذمت کرتےہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل پر غزہ کو اضافی امداد فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

ایک اور تناظر میں کربی نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن "فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کرتا ہے جو جنگ کے بعد کے دور میں غزہ میں کردار ادا کرسکتی ہے"۔

خیال رہے کہ 13 مغربی ممالک جن میں سے اکثر روایتی طور پر اسرائیل کے حامی ہیں نے جمعہ کو تل ابیب پر زور دیا کہ وہ رفح پر بڑے پیمانے پر حملے سے گریز کرے۔

ان ممالک کے وزرائے خارجہ کی طرف سے اپنے اسرائیلی ہم منصب یسرائیل کاٹز کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہےکہ "ہم رفح میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں جس کے عام شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے"۔

دستخط کرنے والے ممالک میں آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا کے علاوہ ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ اور سویڈن یورپی یونین کے رکن شامل ہیں۔

جنگ کے آغاز کے آٹھ ماہ بعد اسرائیل نےغزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر میں لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے بارے میں بین الاقوامی خدشات کے باوجود رفح میں اپنے زمینی حملے تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔

غزہ کے اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے 2.4 ملین آبادی کے لیے خوراک، پینے کے پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں