امریکہ غزہ میں فوری جنگ بندی کرائے اسرائیلی فوج کو غزہ سے نکالے۔ عرب امیریکنز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امیرکنز کے رہنماؤں کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ جمعہ کی رات واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات کی ہے۔

ان رہنماؤں نے پہلی بار دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ امریکہ غزہ میں فلسطینی عربوں کی نسل کشی بند کرائے اور فلسطینیوں کی آزادی کے لیے ایک واضح لکیر کھینچے۔ ان عرب رہنماؤں کی مراد تھی کہ اگر مگر اور چونکہ جنانچہ کی اصطلاحات کی آڑ میں فلسطینیوں کی آزادی کو لٹکائے رکھنے کی پالیسی اب بدلنی چاہیے۔

عرب امیرکنز کے رہنماؤں کی قیادت ' عرب امیرکن انسٹی ٹیوٹ کے صدر جیمس زوگبی کر رہے تھے ۔ جبکہ ان کے ساتھ متعدد اہم تنظیموں کے عہدے دار بشمول امیرکن فیڈریشن آف رام اللہ ، دی عرب امیرکن چین آف کامرس ، عرب امیرکہ اور یونائیٹڈ سٹیٹس فلسطینی کونسل شامل تھے۔

امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں وفد کے منتظمین نے مطالبہ کیا کہ جوبائڈن غزہ میں فوری جنگ بندی کی تائید کرے اور ہرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کرے۔اسی طرح ان سب فلسطینیوں کو بھی رہا کرنے کا مطالبہ کیا جائے جنہیں اسرائیل نے کسی عدالتی عمل کے بغیر ہی رکھا ہوا ہے۔

نیز یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ غزہ سے تمام اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلاء کے لیے امریکہ اپنا موثر کردار ادا کیا جائے۔جبکہ غزہ کے مکینوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے امدادی اشیاء کی بلا تعطل یقینی بنائی جائے ۔سب سے اہم مطالبہ کیا کہ اسلحہ کو اسلحے کی فراہمی فوری روک دی جایے۔خیال رہے اب تک اب تک اسرائیل کو ۔امریکہ سے چالیس ارب ڈالر کے وسائل مل چکے ہیں۔

ان عرب رہنماؤں نے کہا جب ہم پچھلے سال وزیر خاجہ سے ملے تھے تو اس وقت صرف پانچ ہزار فلسطینی جا نبحق ہو ئے تھے۔اب یہ تعداد 36000 ہو چکی ہے۔ جبکہ غزہ کے بیشتر گھر اور انفراسٹرکچر تباہ، لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیاں اجڑ گئی ہیں۔، اور غزہ کے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

اجلاس کے بعد وفد کے قائد زوگبی نے اسرائیلی تحمل پر زور دینے کی امریکی کوششوں کو کمزور قرار دیتے ہوئے مزید کہا ہم ایک بار پھرجو بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی نسل کشی کو ختم کرنے، فلسطینیوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے، اور جو کچھ بچا ہے اسے بچانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔ پوری عرب دنیا میں امریکہ کی بگڑی ہوئی تصویر۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے عرب اور مسلم رہنما جنگ بندی کو نافذ کرنے میں ناکامی پر مایوس ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں