حج سیزن میں طائف کے بادلوں کی مکہ معظمہ کی فضا میں منتقلی کا امکان نہیں:محکمہ موسمیات

علاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام طائف کے بادلوں کو مقدس مقامات پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ موسم کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے موسمیات کے قومی مرکز کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے بادلوں کی منتقلی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سال حج کے موسم میں طائف گورنری کے بادلوں کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس پر کام ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد موسم کی شدت کو کم کرنا ہے تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئیڈیا ابھی تک اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم مستقبل میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مرکز علاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کے ذریعے اس سائنسی ٹیکنالوجی کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو طائف کے بادلوں کو مکہ مکرمہ میں منتقل کرنے کا باعث بن سکتی ہے تاکہ مقدس مقامات میں حج کے دوران درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دی جاسکے۔

اس منصوبے کا خیال جو قومی محکمہ موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے ظاہر کیا کا مقصد بادلوں کے فائدے کو بڑھانا اور ان کی خصوصیات سے فائدہ اٹھانا ہے تاکہ حج سیزن میں مقدس کی فضاؤں میں ٹھنڈک کی نمایاں سطح کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب میں کلاؤڈ سیڈنگ کے تجربات 2004 سے شروع ہوئے ہیں، کیونکہ یہ تجربات بارشوں میں اضافے اور ماحولیاتی پائیداری کے حصول، انسانی صلاحیتوں کی تعمیر اور ارد گرد کے ماحول پر ان کے اثرات کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ خشک سالی کے خاتمے کے لیے پانی کے نئے ذرائع کی تلاش کی مدد گار ثابت ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں