ملا ھبۃ اللہ اخوند زادہ کی کابل آمد، 34 صوبائی گورنروں سے خطاب کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان سربراہ اور افغانستان کے سپریم لیڈر ملا ھبۃ اللہ اخوندزادہ نے جمعرات کے روز افغان دارالحکومت کابل کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کابل کا دورہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اخوند زادہ نے خود کو براہ راست حکومتی امور میں شریک نہیں کیا۔ صرف وقتا فوقتا حکومت اور اس کے عمال کی رہنمائی کے لئے وہ کابل میں دستیاب ہوتے ہیں۔

ان کا قیام ابھی تک افغان صوبے قندھار میں ہے۔ تاہم افغانستان کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جمعرات کو ان کی کابل آمد ہوئی۔ جہاں انہوں نے وزارت داخلہ میں 34 صوبائی گورنروں سے خطاب کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ملا ھبۃ اللہ اخوندزادہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پوست اور منشیات کے خلاف طالبان حکام نے مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ اس وجہ سے کسانوں کے درمیان مبینہ طور پر تناو کی کیفیت ہے۔ نیز سیلابی تباہ کاری کے باعث لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں۔ اس خصوصی صورت حال میں طالبان کے سربراہ کابل آئے اور صوبائی گورنروں سے ملاقات کی۔

افغان ویب سائٹ الامارہ پر جمعہ کو پوسٹ کی گئی تقریر کے خلاصے کے مطابق رہنما نے "اتحاد اور ہم آہنگی" پر زور دیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 'اطاعت کو ایک ذمہ داری کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا 'اسلامی شریعت کے قانون اور اصولوں کے نفاذ کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ نیز ذاتی پسند یا ناپسند اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر عہدیداروں کی تقرری سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔'

خیال رہے ملا اخوند زادہ جن کی عوامی سطح پر آمد اور رابطہ کم ہی رہتا ہے۔ نہ وہ بڑے بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے اور میڈیا میں آنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اب تک کے طویل عرصے میں ان کی ایک ہی تصویر میڈیا کے توسط سے سامنے آسکی ہے۔ کابل میں جمعرات کے روز بھی ان کی ذاتی تشہیر کا سامان نہیں کیا گیا ہے۔ وہ کابل آئے اور وزارت داخلہ میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کی۔ ان کی آمد اور خطاب کی خبر بھی ایک روز بعد ہی ویب سائٹ پر 'اپ لوڈ' کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں