ایرانی صدر کے حادثہ کے بعد ریاستی انتظامیہ متاثر نہیں ہوگی: ایرانی سپریم لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ایرانیوں کو یقین دلایا ہے کہ ریاستی معاملات متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام سے پریشان نہ ہونے کی اپیل بھی کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’’ارنا‘‘ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ وہ صدر رئیسی کی حفاظت کے لیے دعا کر رہے تھے جب وہ ہیلی کاپٹر لے کر جا رہے تھے۔

اتوار رات گئے تک شمال مغربی ایران میں ہیلی کاپٹر کی تلاش کی کارروائیاں جاری رہیں۔ ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر سوار تھے کہ اسے حادثہ پیش آگیا۔ رات گئے ہیلی کاپٹر پر سوار دو افراد کا انتظامیہ سے رابطہ ہوگیا تھا۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق مشرقی آذربائیجان صوبے (غرب) کے جولفا کے علاقے میں صدر کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا۔

صدر کا ہیلی کاپٹر تین ہیلی کاپٹروں کے قافلے کا حصہ تھا جس میں وہ اور دیگر عہدیدار سوار تھے۔ دیگر دو ہیلی کاپٹر محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ اصلاح پسند اخبار ’’شرق‘‘ نے کہا کہ صدر کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

ابراہیم رئیسی کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں میں شامل تھے۔ 20 سے زیادہ امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹر کی تلاش میں روانہ کی گئیں۔ یہ ٹیمیں ڈرونز، ریسکیو کتوں سمیت مکمل آلات سے لیس تھیں۔

ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی صدر کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

آذربائیجان کے صدر سے ملاقات

اتوار کے روز ایرانی صدر نے مشرقی آذربائیجان صوبے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے خاص طور پر اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علییف کے ساتھ دونوں ممالک کی سرحد پر ایک ڈیم کا افتتاح کیا۔ 63 سال کے ابراہیم رئیسی تین سال سے ایران کے صدر ہیں۔ ابراہیم رئیسی کو ایک انتہائی قدامت پسند سمجھا جاتا ہے ۔ وہ 18 جون 2021 کو ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں منتخب ہوئے تھے۔ ان سے قبل اعتدال پسند حسن روحانی ایران کے صدر تھے۔ حسن روحانی نے 2017 کے الیکشن میں ابراہیم رئیسی کو شکست دی تھی۔

امریکی بلیک لسٹ میں شامل

رئیسی نومبر 1960 میں شیعوں کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا بیشتر حصہ عدالتی نظام میں مختلف عہدوں پر رہ کر گزارا۔ وہ خاص طور پر تہران کے پراسیکیوٹر جنرل اور پھر ملک کے پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ ایرانی صدر کا نام امریکی حکام کی اس بلیک لسٹ کے افراد میں شامل ہے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ تاہم ان الزامات کو تہران میں حکام نے مسترد کر دیا ہے۔

ہیلی کاپٹر میں 60 سال کے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی سوار تھے۔ وہ جولائی 2021 میں وزیر خارجہ بنے تھے۔ سفارتی عہدیدار کے طور پر انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ایران نواز دھڑوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ وہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بااثر جنرل قاسم سلیمانی کے بھی قریبی تھے۔ قاسم سلیمانی کو 2020 میں بغداد میں ایک حملہ کرکے امریکہ نے مار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں