بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کی مدد کو تیار ہیں: ایرانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے اعلان کے بعد ایرانی چیف آف اسٹاف محمد باقری نے کہا ہے کہ مسلح افواج عبوری صدر محمد مخبر کی ذمہ داری کے تحت حکومت کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

حکومت اور عوام کی خدمت

باقری نے ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ سےگفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسلح افواج اس دور میں اور پہلے کی طرح حکومت کے شانہ بشانہ اور عوام کی خدمت میں رہیں گی۔

یہ بات ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے آج سوموار کو کیے گئے اعلان کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ ابراہیم رئیسی کی حادثاتی موت کے بعد محمد مخبر ملک کے انتظامی اختیارات سنبھالیں گے۔

ٹیلی ویژن نے خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے "آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق جناب مخبر ایگزیکٹو اتھارٹی کا انتظام سنبھالیں گے اور انہیں قانون سازی اور عدالتی شاخوں کے سربراہوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پچاس دنوں کے اندر نئے صدر کا انتخاب کرنے کا بندوبست کرنا ہوگا"۔

خامنہ ای نے ملک کے شمال مغرب میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہلاکت کے بعد ملک میں پانچ دن کے لیے عام قومی سوگ کا اعلان بھی کیا۔

ایران کی گارڈین کونسل کے ترجمان طحان نظیف نے بھی اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ رئیسی کے معاون اول آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

50 دن کے اندر صدارتی انتخابات

دریں اثنا محمد مخبر جو کہ عبوری صدر بنےہیں نے قانون ساز اور عدالتی حکام کے سربراہوں کے ساتھ ایک غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی۔ اس میں صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کی تصدیق کے بعد ملک کا عبوری نظام چلانے پر غور کیا گیا۔

گارڈین کونسل نے وضاحت کی کہ قانون سازی اور عدالتی شاخوں کے سربراہوں اور جمہوریہ کے پہلے نائب صدر پر مشتمل ایک کونسل نے زیادہ سے زیادہ 50 دنوں کے اندر صدارتی انتخابات کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں