ترکیہ کا علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان کی حمایت کا اعلان

پاکستان اور ترکیہ تجارت کی ساخت کو پانچ ارب ڈالر تک لے کر جائے گا: اسحٰق ڈار کا ترکیہ کے وزیر خارجہ کاقان فیدان کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نائب وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان تجارت کی ساخت کو پانچ ارب ڈالر تک لے کر جائے گا۔

وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ کاقان فیدان کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، ترکیہ کے وزیر خارجہ کے دورے پر دلی خوشی ہے، پاکستان اور ترکیہ دو ملک اور ایک قوم ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ اور سٹریٹجک تعلقات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے سے قائم ہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ملکوں کی قیادت ہمیشہ عوام کے مفاد میں کام کرتی ہے، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان اور ترکیہ نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کو سپورٹ کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، ترکیہ اور پاکستان تجارت کی ساخت کو پانچ ارب ڈالر تک لے کر جائے گا، پاکستان اور ترکیہ دفاعی تعاون کو جاری رکھے گا، دونوں ملکوں میں تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے۔

کاقان فیدان کا کہنا تھا کہ میری وزیر خارجہ اور میرے بھائی اسحٰق دار کے ساتھ بہت مثبت ملاقات ہوئی اور مجھے یہاں آنے ہر انتہائی خوشی ہے، ہم نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، ہم نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا اور دو طرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانےکے عزم کا اظہار کیا، ہم نے واضح کیا کہ ہم ریجنل اور گلوبل معاملات میں پاکستان کو سپورٹ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے، ملاقات میں ہم نے اس حوالے سے بھی گفتگو کی، ہم نے غزہ کی صورتحال پر بات چیت کی ہے، ہم غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ترکیہ اور پاکستان کی غزہ میں جنگی جرائم کے حوالے سے مشترکہ پوزیشن ہے، ہم تمام سفارتی مواصلات کو بروئے کار لا کر اس معاملے کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی اور ملٹری سپورٹ بند کر دی جائے تو یہ کارروائی نہیں کر سکے گا، ہم ان کی مذمت کرتے ہیں جو اس جرم میں شامل ہیں جبکہ دوسروں کو انسانی حقوق پر لیکچر دیتے ہیں۔

کاقان فیدان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو رسیاستی حل کی طرف جانا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے، جنہوں نے ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ان کو فلسطین کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا میرا یہ پہلا دورہ ہے، پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، پاکستان ہمارا قریبی دوست اور برادر ملک ہے، پاکستان کا علاقائی و عالمی سطح پر اہم کردار ہے، دوسری جانب پاکستان کا گلوبل سکیورٹی کے لحاظ سے بھی ایک اہم کردار ہے، ہماری نظر میں پاکستان کی اہمیت بہت مختلف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں