ایرانی صدر کے طیارے کو گرانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حکام نے ملک کے صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حادثے میں صدر کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کا علم نہیں۔ انہوں نے حادثے میں واشنگٹن کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی صدر اور ان کے وزیر خارجہ کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو مار گرانے میں واشنگٹن کا کوئی کردار نہیں تھا۔ میں طیارے کے حادثے کی وجہ کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ہم ایرانی صدر کی موت کے بعد علاقائی سلامتی پر وسیع اثرات مرتب ہوتا نہیں دیکھ رہے۔ ایران نے ہم سے مدد کی درخواست کی۔ تاہم لاجسٹک وجوہات نے ہمیں اس سے روک دیا۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثہ کے بعد
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثہ کے بعد

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ایران نے واشنگٹن سے ابراہیم رئیسی کو بچانے میں مدد کرنے کو کہا، لیکن لوجسٹک وجوہات کی بنا پر ہم ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی عوام اور انسانی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ رئیسی کی موت سے ایران کے بارے میں واشنگٹن کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہم ایرانی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت، خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایٹمی پروگرام میں اس کی پیشرفت کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔

قبل ازیں امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار، جس نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا، نے کہا کہ ہیلی کاپٹر گرنے کا باعث بننے میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں تھی۔

سینئر اہلکار نے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ بعض ایرانی حکام نے سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بیانات کے حوالے سے امریکہ یا اسرائیل پر الزام لگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ مضحکہ خیز ہے‘‘ ۔

اتوار 19 مئی کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی آذربائیجان میں آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کے ساتھ تیسرے ڈیم کے افتتاح کے بعد واپس آرہے تھے۔ ان کا ہیلی کاپٹر ملک کے شمال مغرب میں مشرقی آذربائیجان صوبے کے ایک ناہموار علاقے میں 2500 میٹر کی بلندی پر اڑتے ہوئے حادثہ کا شکار ہوگیا۔ ہلال احمر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے گرنے سے قبل ہی اس میں موجود تمام افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

بہت سے ایرانی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے موسم کی خراب صورتحال اور گھنی دھند کے ساتھ ناہموار جگہ اور اونچے پہاڑ ہیں۔ دیگر کا خیال تھا کہ اس کی وجہ تکنیکی خرابی یا پرانے بیل 412 ہیلی کاپٹر کی خراب دیکھ بھال کے باعث پیدا ہونے والی خرابی بھی ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں