عالمی عدالت میں وارنٹ گرفتاری کے اقدام سے غزہ سیز فائر مذاکرات کو نقصان پہنچا: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم، ان کے وزیر دفاع اور حماس تحریک کے تین رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست سامنے آنے پر رد عمل دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ اس درخواست کو مسترد کرتا ہے کہ آئی سی سی پراسیکیوٹر اسرائیلی حکام اور فلسطینی تحریک کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرے گا۔

بلنکن نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد میں اضافے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہم اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ہی پراسیکیوٹر کو شرمناک قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

پورے اسرائیل پر حملہ

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگی جرائم کے پراسیکیوٹر کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بے عزتی" اور پورے اسرائیل پر حملہ قرار دیا۔ نیتن یاہو نے آئی سی سی کی درخواست کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ یہ براہ راست اسرائیل کے خلاف ہدایت ہے۔

نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری

عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کی بنیاد پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف دو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ پراسیکیوٹر کریم خان نے وضاحت کی ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

انہوں نے امریکی نیوز چینل ’’ سی این این‘‘کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں نسل کشی کا باعث بننا، جنگ کے ذریعہ قحط پیدا کرنا، انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

تین حماس رہنما

آئی سی سی پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا کہ وہ حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کریں گے۔ ان میں غزہ میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار، القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد دیاب ابراہیم المصری المعروف محمد الضیف اور حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ شامل ہیں۔

کریم خان نے کہا سنوار، ضیف اور ہنیہ کے خلاف الزامات میں نسل کشی، قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور دوران حراست جنسی زیادتی شامل ہیں۔ واضح رہے اسرائیل اور امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن نہیں ہیں۔ تاہم عالمی عدالت غزہ، مشرقی القدس اور مغربی کنارے پر دائرہ اختیار رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ فلسطینی رہنماؤں نے 2015 میں عدالت کے بانی اصولوں کی پابندی کرنے پر باضابطہ طور پر اتفاق کیا تھا۔

عدالت کے اختیارات کیا ہیں؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت ایک آزاد عدالتی ادارہ ہے جو نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں ملوث افراد پر دائرہ اختیار رکھتا ہے۔ عدالت کے پاس مشتبہ افراد کا سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کے لیے اپنی پولیس فورس نہیں ہے۔ اس کی جگہ عدالت کو گرفتاریاں کرنے اور ملزمان کی ہیگ منتقلی کے لیے قومی پولیس کی خدمات پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں