گوانتانامو بے کے سابق قیدی کی درخواست امریکی سپریم کورٹ نے مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سپریم کورٹ نے گوانتانامو بے میں قید رہ چکے قیدی کی جنگی جرائم کے کھاتے میں کی گئی کنوکشن کے لیے معافی کی درخواست پر کوئی ریمارکس دیے اور غور کیے بغیر ہی مسترد کر دی ہے۔ 37 سالہ حضر کو افغانستان میں ہوتے ہوئے امریکی فوجی پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا دی سانئی گئی تھی۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیدا ہونے والے حضر کو ان کے والد اپنے ساتھ افغانستان بہت اوائل عمری میں ہی لے آئے تھے۔ جہاں اسے محض 15 سال کی عمر میں سنہ 2002 میں امریکی فوج نے حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتا نامو بے میں منتقل کر دیا تھا۔

حضر کے والد مبینہ طور پرالقاعدہ کے فنانسرز میں سے ایک تھے۔ اس کے والد کو پاکستانی فوج نے 2003 میں اسے ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ بعد ازاں 2010 میں حضر کو امریکی فوجی کے قتل کے الزام میں اور جنگی قانون کی خلاف ورزی کی خلاف ورزی پر سزائےقید سنائی تھی۔

ان پر ارادہ قتل، سازش کرنے، دہشت گردی اور جاسوسی وغیرہ کے الزامات بھی تھے جن سب کی بنیاد پر آٹھ سال قید سنائی، تاہم انہیں 2012 میں کینیڈا بھیج دیا گیا اور کہا گیا کہ باقی سزا اپنے ملک میں جا کر قید بھگتیں۔

اب 37 سالہ حضر نے امریکی سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ ان کے خلاف ' کنوکشن ' ختم کی جائے۔ پیر کے روز اس سلسلے میں امریکی سپریم کورٹ کے اس بارے میں کوئی تبصرہ یا ریمارکس دیے بغیر اور عملاً کیس سنے بغیر حضر کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں