ہیلی کاپٹر حادثے کے متعلق تحقیقات شروع، اعلیٰ سطح کا وفد موقع پر پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوگیا۔ پیر کو ایرانی، ان کے وزیر خارجہ اور دیگر سواروں کی موت کا اعلان کردیا گیا۔ ایرانی نیوز ایجنسی ’’ مہر‘‘ کی رپورٹ کے مطابق چیف آف سٹاف محمد باقری کے حکم پر ملک کے صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

محمد باقری نے یہ ذمہ داری ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے سپرد کی ہے۔ اس وفد میں ماہرین اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔ یہ افراد ہیلی کاپٹر حادثے کے طول و عرض کا جائزہ لیں گے اور حادثہ کی وجوہات کا تعین کریں گے۔

ایرانی نیوز ایجنسی نے بتایا کہ وفد ایران کے مشرقی آذربائیجان صوبے میں جائے حادثہ پر پہنچا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ فیلڈ تحقیقات کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ایرانی ہلال احمر نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے فوراً بعد اس تک فوری طور پر پہنچا نہیں جا سکا۔ ہلال احر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد حادثہ کے ابتدائی لمحات میں ہی ہلاک ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر 2500 میٹر کی بلندی پر اڑتے ہوئے گر کر تباہ ہوا۔

حادثہ کے بعد ہیلی کاپٹر کی ابتدائی تصاویر سے معلوم ہوا کہ ہیلی کاپٹر تقریباً جل چکا تھا۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہیلی کاپٹر خراب موسمی حالات کی وجہ سے آذربائیجان کے ساتھ ایرانی سرحد پر ایک ناہموار علاقے میں پہاڑ کی چوٹی سے ٹکرا کر تباہ ہوا۔

بعض تجزیہ کاروں نے العربیہ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ ان کے خیال میں ہیلی کاپٹر شدید دھند اور خراب موسمی حالات کے درمیان تبریز کے علاقے میں ایک پہاڑ سے ٹکرا گیا۔ یہ امکان اس لیے بھی ہے کہ ہیلی کاپٹر تقریبا مکمل طور پر جلا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں