امریکی وزیرخارجہ کا فلسطین کے حامی مظاہرین سے سامنا، مظاہرین کے ’جنگی مجرم‘ کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کانگریس کی عمارت میں آج بدھ کو ریپبلکن کی زیر قیادت ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹی اور اسی ایوان میں ایک مختص ذیلی کمیٹی کی اپنے حالیہ دو دوروں کے بارے میں بریفنگ دینے آئے تو انہیں سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی کے دوران سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کو منگل کی شام کو غزہ میں جنگ کے حوالے سے امریکی پالیسی کی مذمت کرنے والے کارکنوں کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

ناراض مظاہرین نے بلینکن کو اس وقت روک دیا جب انہوں نے ڈیموکریٹک کنٹرول والی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی بریفنگ دینا شروع کی۔ اس موقعے پر مظاہرین نے بلنکن کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

انہوں نے "امریکی حکومت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں"، "جنگی مجرم،" "غزہ کا قصاب" اور "آپ کے ہاتھ 40,000 فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ ایک خاتون بینر لہراتے ہوئے کانگریس کی عمارت کے اندر داخل ہوگئی جس پر بلنکن کی تصویر کے ساتھ ’مجرم‘ کا لفظ لکھا گیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے خاتون کو وہاں سے باہر نکال دیا۔

بلنکن نے اسرائیل کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی حمایت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ "مشرق وسطیٰ میں ہم اسرائیل کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کھڑے ہیں تاکہ سات اکتوبرکے واقعے کا اعادہ روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہم غزہ میں خوفناک انسانی مصائب کو ختم کرنے اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی بساط میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں"۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے معاملے کا ذکر کرتےہوئے بلنکن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کو مناسب جواب دینے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی سماعت میں بلنکن نے ’آئی سی جے‘ کے اس اقدام کو ایک "غلط" فیصلہ قرار دیا جو قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کو پیچیدہ بنا دے گا۔

امریکہ نے عالمی عدالت انصاف کے پراسیکیوٹرکریم خان کے اعلان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت غزہ تنازعہ کے معاملے پر غور کرنے کی اہل نہیں ہے اور اس کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں