بین الاقوامی عدالت کومطلوب پوتین اور البشیرسمیت کئی لیڈر مفرور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور فلسطینی تحریک حماس کے تین رہ نماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا دو سرکردہ اسرائیلی شخصیات کی گرفتاری ممکن ہے یا یہ فیصلہ محض فیصلہ ہی رہے گا۔

اسرائیل اس عدالت کا رکن نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرتا ہے لیکن فلسطین نے 2015ء میں اس عدالت کی رکنیت حاصل کی تھی اور یہیں سے اس نے اس کیس کی سماعت کا دائرہ اختیار حاصل کیا تھا۔

عدالت نیتن یاہو کو اس وقت تک گرفتار نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ ان 123 ممالک میں سے کسی ایک کا سفر نہ کرے جنہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم کنونشن پر دستخط کیے ہیں۔ لہٰذا نیتن یاہو یا گیلنٹ کی گرفتاری اگر ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں تو وہ عدالت کی پہنچ میں نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ ممکنہ طور پر اس معاملے میں معاہدے پر دستخط کرنے والے کسی بھی ملک کا سفر نہیں کریں گے۔

اگر کریم خان کی ’آئی سی جے‘ پری ٹرائل چیمبر سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اسرائیل اور حماس کے رہ نما جنگی جرائم کے مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔

ذیل میں فہرست میں سب سے نمایاں ناموں کی فہرست ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مارچ 2023ء میں پوتین کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جس میں ان پر یوکرین سے سینکڑوں بچوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کے جنگی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

کریملن نے کہا کہ یہ اقدام ’بےمعنی‘ ہے اور بار بار ان الزامات کی تردید کی کہ روسی افواج نے یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے دوران مظالم کا ارتکاب کیا۔

سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر اور لیبیا کے آنجہانی صدر معمر قذافی کے بعد پوتین تیسرے سربراہ مملکت ہیں جن کے خلاف عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2009ء میں عمرالبشیر کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا جس میں اس پر دارفور کے علاقے میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام لگایا گیا تھا، جہاں ایک اندازے کے مطابق 300,000 افراد ہلاک اور 20 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے تھے۔

البشیر اور اس کے کچھ اتحادیوں کو 2019 میں ملک میں عوامی بغاوت کے بعد سوڈان میں قید کر دیا گیا تھا، لیکن انہیں دی ہیگ نہیں بھیجا گیا۔

فوج نے کہا کہ سابق آمر کو گذشتہ سال اپریل میں جیل سے ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

یوگنڈا میں لارڈز ریزسٹنس آرمی کے بانی جوزف کونی

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2005ء میں یوگنڈا میں لارڈز ریزسٹنس آرمی کے بانی اور رہ نما جوزف کونی کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔

عدالت کے ججوں نے اس سال کے شروع میں ایک بے مثال فیصلہ لیا جس میں استغاثہ کو الزامات پر غور کرنے کے لیے غیر حاضری میں سماعت کرنے کی اجازت دی گئی۔

استغاثہ کونی پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے 36 الزامات عائد کرنا چاہتا تھا، جن میں قتل، عصمت دری، بچوں کی بھرتی، جنسی غلامی، جبری شادی اور جبری حمل شامل ہیں۔

سیف الاسلام قذافی

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2011ء میں سیف الاسلام قذافی اور ان کے والد مقتول معمر قذافی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ صدر قذافی کو اسی سال اکتوبر میں گرفتار کر کے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

زینتان کے جنگجوؤں نے سیف الاسلام کو اس کے والد کے قتل کے چند دن بعد گرفتار کیا اور وہ 2017 میں عام معافی کے قانون کے تحت رہا ہونے تک شہر میں نظر بند رہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں سیف الاسلام نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی جو 2021 میں ملتوی ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے لیبیا میں صدارتی الیکشن نہیں ہوسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں