جنازوں کی تصویر کشی کے لیے مصر میں اوقاف، پریس اور میڈیا کے درمیان معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کی مساجد میں جنازوں کی عکس بندی کے بحران کو حل کرنے، آزادی صحافت سے ہم آہنگی اور مرنے والوں کے جنازے کے احترام کے لیے محکمہ اوقاف نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنازوں کے حوالے سے ایک نیا ضابطہ اخلاق متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں میت کے احترام کے ساتھ ساتھ آزادی صحافت کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔

مصری وزیر اوقاف محمد مختارجمعہ ، صحافی مصنف کرم جبر، میڈیا ریگولیشن کی سپریم کونسل کے سربراہ انجینر عبدالصادق الشوربجی، نیشنل پریس اتھارٹی کے سربراہ مصنف خالد البلشی اور میڈیا سنڈیکیٹ کے سربراہ طارق سعدہ نے اس معاملے کا تمام جہتوں سے مطالعہ کیا۔

تمام اخلاقی، انسانی اور پیشہ ورانہ اقدار کو مدنظر رکھنا

بیان میں عبادت گاہوں کے تقدس کا احترام، جائے وقوعہ کی عظمت کا احترام، جاں بحق افراد کے لواحقین کے جذبات کا احترام، پریس اور میڈیا کی آزادی اور بیک وقت ان کے قومی کردار کا احترام پر زور دینے کے ساتھ ساتھ تمام اخلاقی، انسانی اور پیشہ ورانہ اقدار کو ملحوظ خاطر رکھنے پر زور دیا گیا۔

ایک متفقہ فارمولے پر اتفاق کیا گیا جس میں کسی ایک حق کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گیا۔البتہ میڈیا اور اوقاف کی حدود میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میڈیا رہ نماؤں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پیشہ ورانہ کنٹرول اس طریقے سے قائم کرنے پر اتفاق کیا جس سے میڈیا کے اپنے پیشہ ورانہ کردار کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رہے اور عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رہے۔ساتھ ہی میت کے معاملے کی سنجیدگی اور متانت کو برقرار رکھا جا سکے۔

وزارت اوقاف نے انسانی ہمدردی کے پہلوؤں سے تمام مشترکہ مفادات اور عام کمیونٹی کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے اتفاق کیا۔

تمام فریق متفق ہیں

اس موقعے پر تمام فریقین نے ایسے کنٹرول قائم کرنے پر اتفاق کیا جو عبادت گاہوں کے اندر میڈیا کوریج کو منظم کرتے ہیں۔ اس سب کا مقصد میڈیا کو محدود کرنا نہیں ہے، بلکہ عبادت گاہوں کے تقدس اور موت کی صورت حال کی سنجیدگی کو مدنظر رکھنا ہے۔ پیشہ ورانہ میڈیا چارٹر کی روشنی جو اسے مدنظر رکھتے ہیں اور اسے برقرار رکھتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصری وزیر اوقاف محمد مختار جمعہ نے اس سے قبل مساجد میں جنازوں کی تصویر کشی کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب جنازوں کے دوران مساجد اور میتوں کے تقدس کو پامال کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے۔

دوسری طرف جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے وزیر اوقاف کی طرف سے جنازوں کی عکس بندی روکنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے خلاف قرار دیا تھا۔

جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے سربراہ خالد البلشی نے کہا تھا کہ سنڈیکیٹ کسی بھی ایسے فیصلے کو مسترد کرتا ہے جو آزادی صحافت پر قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے بات پر زور دیا جنازوں کی فلم بندی کو روکنے کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

پچھلے جنازوں میں بحران

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں مصر میں مشہور شخصیات کے جنازوں پر کافی تنازعہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جب فوٹوگرافر صلاح السعدانی کا گذشتہ 19 اپریل کو انتقال ہوا تو ان کے اہل خانہ نے فوٹو گرافی پر پابندی کا اعلان کیا کہ فوٹوگرافر، میڈیا پروفیشنلز اور صحافی جنازے میں شرکت نہیں کریں گے۔ تعزیتی تقریبات صرف خاندان، دوستوں اور ساتھیوں تک محدود تھیں۔

اسی دوران ان کے بیٹے مصور احمد السعدانی کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا جس میں وہ اپنے والد کے جنازے کو فلمانے کے لیے جمع ہونے والے فوٹوگرافروں پر غصے کا اظہار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

دریں اثنا اس پر اداکاروں کی سنڈیکیٹ نے مطالبہ کیا کہ صحافی اور نامہ نگار مرحوم صلاح السعدانی کی آخری رسومات میں ان کے اہل خانہ کی خواہش کی بنیاد پر 6 اکتوبر کو شیخ زید کی پولیس مسجد میں نہ آئیں۔

فنکار کریم عبدالعزیز کی والدہ کا چند روز قبل انتقال ہوا تو انہوں نے ان کی آخری رسومات کی فوٹوگرافی روکنے کے لیے باضابطہ بیان جاری کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں