وائٹ ہاؤس کی مداخلت پر اسرائیل نے 'اے پی' کے کیمرے اور دیگر آلات واپس کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر مواصلات نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے مداخلت کے بعد انہوں نے غزہ میں جاری کارروائیوں اور صورت حال کی ویڈیو بنانے والے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی ویڈیو بنانے سے متعلق اقدامات کو واپس لے لیا ہے۔

اسرائیلی وزیر شلومو کاربی نے منگل کے روز امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی طرف سے غزہ کی بنائی گئی ویڈیوز کے ساتھ ساتھ 'اے پی' کے کیمرے اور دیگر آلات بھی ضبط کر لیے تھے اور کہا تھا کہ غزہ کی صورتحال کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم رات گئے انہوں نے کہا ہے کہ ہم یہ اقدام واپس لے رہے ہیں اور 'اے پی' کو اس کی ویڈیو اس کے آلات سمیت واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ 'ایسوسی ایٹڈ پریس آف امیریکہ' نے غزہ کی صورتحال پر ویڈیوز بنا کر الجزیرہ ٹی وی چینل کو فراہم کی ہیں۔ جو کہ اسرائیل کے ایک نئے بنائے گئے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے 'اے پی' کا سازو سامان اور ویڈیوز قبضہ میں لے لیے گئے ہیں۔

واضح رہے قطر کا سیٹلائٹ ٹی وی چینل 'الجزیرہ' 'اے پی' کی نیوز اینڈ ویڈیوز لینے والے ٓان ہزاروں صارفین میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کی خبریں دینے کے لیے مشہور ہے۔ 'امیریکن ایسوسی ایٹڈ پریس' نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔

اسرائیل میں صحافتی کوریج کی غزہ کے حوالے سے انتہائی محدود اجازت کا اس طرح بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران بیسیوں صحافیوں کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثر کا تعلق بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں یا آن لائن جرنلزم اور ٹی وی چینل سے تھا۔

منگل کے روز کی گئی اس کارروائی کی 'اے پی' کے کارپوریٹ کمیونیکشن کے نائب صدر لارین ایسٹون نے سخت الفاظ میں اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی اور کہا 'یہ ہماری کام میں مداخلت کے مترادف ہے کیونکہ اسرائیل نے ہمارے ادارے کے کیمرے اور دیگر آلات بھی ضبط کر لیے ہیں۔' انہوں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس غیرقانونی اقدام کو فوری واپس لے۔

لارین ایسٹون نے کہا 'ہماری سروس پر اسرائیل کی طرف سے لگائی گئی بندش کسی کنٹینٹ کے قابل اعتراض ہونے کی وجہ سے ہرگز نہیں تھی۔ بلکہ یہ اسرائیل کے مجرمانہ ہتھکنڈوں کا شاخسانہ تھا جس کا نتیجہ ذرائع ابلاغ بھگت رہے ہیں۔'

اس پس منظر میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزارت مواصلات کے حکام نے جنوبی غزہ میں خود پہنچ کر 'اے پی' کے کوریج کرنے والے آلات کو ضبط کیا اور 'اے پی' کو فوٹیج بنانے سے روک دیا۔ 'اے پی' کو وزیر مواصلات شوملو کاربی کا دستخط شدہ حکم نامہ دکھایا اور الزام لگایا کہ 'اے پی' اسرائیل کے 'نشریاتی قانون' کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

جس وقت کیمرے اور آلات اسرائیلی مواصلاتی حکام نے ضبط کیے اس وقت شمالی غزہ کا ایک منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جا رہا تھا۔ خیال رہے 'اے پی' اور دوسرے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اسرائیل کی طرف سے فوجی سنسرشپ کی پوری طرح تعمیل کرتے ہیں اور فوجی قواعد کی پیروی کرتے ہیں۔ جس کے تحت علاقے میں فوجی کارروائیوں کو صرف دھواں اٹھنے کی حد تک ہی عام طور پر دکھایا جاتا ہے اور زمین پر موجود واقعات کو سنسر کر دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی وزارت مواصلات نے ایک بیان میں کہا ہے 'وزارت اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی نشریات کو محدود کرنے کے لیے ضروری اقدام کرتی رہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں