’داعش‘ کا’روبوٹ‘ ترجمان،کیا شدت پسند مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ مارچ میں روس میں ایک کنسرٹ پر ’داعش‘ کے حملے کے چار دن بعد دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ایک خصوصی پلیٹ فارم پر 92 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ نشر کیا گیا۔ اس میں ایک نیوز کاسٹر کو ہیلمٹ اور فوجی وردی پہنے خبرپڑھتے دکھایا گیا۔ اس فوجی نما ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ ’داعش‘ اور اسلام کے خلاف برسرجنگ ممالک کے درمیان جاری محاذ آرائی میں "فطری ردعمل" کا حصہ تھا۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ براڈکاسٹر "جعلی" تھا کہ کیونکہ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے "نیوز ہارویسٹ" نامی پروگرام کے ذریعے بنایا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ آن لائن دہشت گردانہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے گروپ SITE انٹیلی جنس کی طرف سے شیئر کی گئی ویڈیوز کے مطابق مارچ سے نیوز ہارویسٹ نے دنیا بھر میں ’داعش‘ کی کارروائیوں کے بارے میں تقریباً ہفتہ وار ویڈیو پیغامات فراہم کیے ہیں۔

مارچ سے اس پروگرام نے دنیا بھر میں ’داعش‘ کی کارروائیوں کے بارے میں تقریباً ہفتہ وار ویڈیو پیغامات فراہم کیے ہیں۔ ’نیوز ہارویسٹ‘ پروگرام کی شریک بانی ریٹا کاٹز نے کہا کہ اسے خبروں کی نشریات سے مشابہت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاہم ایک طاقتور پروپیگنڈے کے آلے کے طور پر مصنوعی ذہانت کے ابھرنے اور داعش کے میڈیا آپریشنز کے اس کے استعمال کا پہلے کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ’داعش‘ کے لیے مصنوعی ذہانت کا مطلب گیم چینجر ہے"۔ کاٹز نے کہا کہ "یہ ان کے لیے اپنے مہلک حملوں کو دنیا کے تقریباً ہر کونے تک پھیلانے کا ایک تیز طریقہ ہوگا"۔

ویڈیوز کا آغاز ’داعش‘ کے لوگو اور خبر کی سرخی سے ہوتا ہے۔ AI سے تیار کردہ نیوز اینکرز اسکرین پر نمودار ہوتا ہے جو جنگی یا فوجی وردی والی جیکٹس پہنے ہوتے ہیں، جبکہ نیوز ریلز اور ویڈیو فوٹیج تنظیم کے ارکان کو دہشت گردانہ مشن انجام دیتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ اسی ویڈیو کو داعش کے پروپیگنڈہ پلیٹ فارمز النباء اور عماق پربھی نشر کیا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے دہشت گرد ذرائع ابلاغ کے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ویڈیوز میں کچھ ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت دہشت گرد گروہوں کو تیزی سے پروپیگنڈہ پھیلانے اور ارکان کو بھرتی کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

’داعش‘ اپنے میڈیا آپریشنز کے لیےمشہور ہے جو کہ ہالی ووڈ کی سطح پر بھرتی کی ایسی ویڈیوز تیار کرتی ہے جو نوجوانوں کو پسند آتی ہیں۔ AI ویڈیو جنریٹرز اب کم لاگت کے ساتھ اس طرح کے مواد کی تخلیق کی اجازت دیتے ہیں۔

القاعدہ سمیت کئی عسکریت پسند تنظیموں نے AI سے چلنے والے چیٹ بوٹس، امیج جنریٹرز اور آڈیو ری پروڈکشن ڈیوائسز کو تیزی سے غلط معلومات بنانے کے لیے استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

کاٹز نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ’آئی ایس آئی ایس‘ کے حامیوں کو یہ صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ بے ضرر طریقے سے خبریں نشر کر سکتے ہیں۔ سستے اور آسان AI ٹولز ویڈیوز کو تیزی سے اور کم بجٹ پر تیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں جس سے داعش اور القاعدہ جیسے گروپ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں