تہران:رئیسی کی تدفین کے دوران ایران کےاتحادی مزاحمتی گروپوں کے سربراہان کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کے روز رپورٹ کی ہے کہ ایران سے جڑے مزاحمتی گروپوں کا ایک اہم اجلاس تہران میں ہوا ہے۔ جس میں غزہ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور اسرائیل کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں ایران کے علاقائی اتحادیوں کو متحد رکھنا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس ، لبنانی ملیشیا حزب اللہ ، یمن کی حوثی تحریک اور عراقی شیعہ مسلح گروہ کی نمائندگی اس اجلاس میں موجود تھی۔ مزاحمتی گروپوں کے نمائندہ لوگ حادثے میں جاں بحق ہو جانے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے بطور خاص ایران آئے تھے۔

اس سے قبل حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی اور صدر ابراہیم رئیسی کے افسوسناک انتقال پر تعزیت کی۔

مزاحمتی گروپں کے اجلاس میں جن مزاحمتی رہنماؤں نے شرکت کی ہے ان میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ ، حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم اور حوثی ترجمان محمد عبدالسلام شامل تھے۔

بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر ایرانی پاسداران انقلاب کور کے کمانڈر جنرل حسین سلامی کے علاوہ بیرون ایران آپریشنز کے سربراہ اور القدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل بھی موجود تھے۔

سرکاری نشریاتی ادارے 'آئی آر آئی بی' نے رپورٹ کیا ہے کہ ان سب رہنماؤں نے غزہ کی تازہ صورتحال اور غزہ کے جنگ زدہ فلسطینیوں کے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ 'آئی آر آئی بی' کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی مکمل شکست اور فلسطینیوں کی مکمل کامیابی تک جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

واضح رہے عزم کے اس اعادے میں خطے کے تمام مزاحمتی گروپ شامل تھے۔ حزب اللہ کے ٹی وی 'المنار چینل' نے بھی اس اہم اجلاس کی خبر اور تصاویر نشر کی ہیں۔ نیز ایران کے خبر رساں ادارے 'فارس' نے بھی اجلاس کے شرکاء کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔

ایران کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے سات اکتوبر کے بعد خطے میں کئی دورے کیے۔ خصوصاً شام اور لبنان کے ان کے دوروں کے دوران وہ حماس کی غزہ میں کامیابی کے لیے رہنمائی اور مشاورت کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں