فلسطینی حامی کارکنان پر پرتشدد ہجومی حملے کے بعد یو سی ایل اے پولیس چیف کی برطرفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پولیس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جب تین ہفتوں کے بعد کیمپس کے اہلکار زیرِ عتاب آئے۔ ان کا یو سی ایل اے میں احتجاجی کیمپ میں فلسطینی حامی کارکنان پر ایک پرتشدد اور رات بھر ہجومی کے حملے سے نمٹنے کا طریقہ اس کی وجہ بنا۔

وائس چانسلر میری اوساکو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا، جنوری میں باضابطہ طور پر مقرر کردہ یو سی ایل اے پولیس چیف جان تھامس کو "ہمارے حفاظتی عمل کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں عارضی طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔"

اوساکو نے بتایا کہ کیمپس پولیس کے کیپٹن گیون گبسن کو منگل کو یو سی ایل اے کے قائم مقام چیف آف پولیس نامزد کیا گیا۔

تھامس اور یونیورسٹی کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تشدد کے واقعے پر ردِعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ یو سی ایل اے میں فلسطینی حامی کارکنان اور 30 اپریل کو رات گئے ان پر حملہ آور گروپ کے درمیان پیش آیا تھا۔

نقاب پوش حملہ آوروں نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ساتھ خیمہ کیمپ پر یلغار کر دی تھی جنہیں بعد میں یونیورسٹی کے اہلکاروں نے "اشتعال انگیز عناصر" قرار دیا۔ پولیس کی مداخلت سے قبل فریقین کے درمیان کم از کم تین گھنٹے تک تصادم جاری رہا۔

فریقین نے ہاتھا پائی کی اور ایک دوسرے پر سیاہ مرچ والا اور ریچھ/جانوروں کو بھگانے والا سپرے (بیئر ریپیلنٹ) کیا۔ فلسطین کے حامی ارکان نے کہا کہ ان پر پٹاخے پھینکے گئے۔

زیادہ تر افراد کے بیان کردہ واقعات کے مطابق تصادم صبح سویرے تک طوالت اختیار کر گیا اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچی اور نظم و ضبط بحال کیا لیکن فوری طور پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کے ترجمان نے بعد میں بدامنی پر "کیمپس میں قانون نافذ کرنے کے محدود اور تاخیری ردِعمل" کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا۔

خود نیوزوم اور لاس اینجلس کے میئر کیرن باس دونوں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے بیانات جاری کیے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اگلی رات کیلیفورنیا ہائی وے پٹرول کی قیادت میں سینکڑوں افسران نے کیمپ پر چھاپہ مارا اور خیمے ہٹا دیئے جس میں 210 افراد گرفتار ہوئے۔

دو دن کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے یو سی ایل اے امریکی کالجوں کے درجنوں کیمپسز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکزی نکتہ بن گئی جہاں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف مظاہرے طلباء کے ایک دوسرے سے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم کا باعث بنے۔

کیمپس میں غزہ کے فلسطینیوں کو درپیش سنگین انسانی بحران کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنوں پر اسرائیل کے حامیوں نے یہود دشمنی کو ہوا دینے اور یہودیوں کے لیے مخالفانہ ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔

فلسطین کے حامی فریق بشمول کئی یہودی اس بات کا یہ جواب دیتے ہیں کہ انسانی حقوق کی حمایت اور اسرائیلی حکومت کی مذمت کے پیغام کو سیاسی مخالفین نے غیر منصفانہ طور پر یہود مخالف نفرت سے تشبیہ دی ہے۔

یو سی ایل اے کی ہنگامہ آرائی کے چند دنوں بعد یونیورسٹی کے عہدیداروں نے اعلان کیا کہ کیمپس سکیورٹی اور اس واقعے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کا بیرونی ماہرین وسیع پیمانے پر جائزے لیں گے جس میں عوامی تحفظ کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور مواصلات کے بارے میں سوالات شامل ہیں۔

یکم مئی کی ہنگامہ آرائی کے مرتکب افراد کی شناخت کے لیے ایک الگ تفتیش شروع کی گئی۔

یو سی ایل اے کے چانسلر جین بلاک نے ایک نئے کیمپس سیفٹی آفس کی تشکیل کا بھی اعلان کیا اور اس کارروائی کی سربراہی کے لیے سابق سیکرامینٹو پولیس چیف رک برازیل کو نامزد کیا گیا۔

پولیس کی تبدیلی اور ازسرِنو تنظیم اس وقت ہوئی جب جین بلاک امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے لیے تیار ہوئے۔ ریپبلکنز کی طرف سے کیمپس میں ہونے والی بدامنی اور فلسطینی حامی مظاہروں سے پیدا ہونے والے یہود دشمنی کے الزامات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کانگریس کی سماعتوں کے سلسلے میں یہ گواہی تازہ ترین ہے۔

نارتھ ویسٹرن اور رٹگرز یونیورسٹیوں کے صدور بھی جمعرات کو سماعت کے لیے پیش ہونے والے ہیں۔

یہ واضح نہیں تھا کہ عہدے سے ہٹانے پر تھامس کیا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے دسمبر 2022 سے اس سال جنوری تک عبوری پولیس چیف کے طور پر خدمات انجام دیں جب انہیں مستقل بنیادوں پر اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں