نکی ہیلی کا حیران کن بیان، ٹرمپ کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سابق سفیر اور ریپبلکن صدارتی امیدوار نکی ہیلی نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ نومبر میں سابق صدر ٹرمپ کو ووٹ دیں گی۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو 2024ء کی دوڑ کو متاثر کرے گی۔

ہیلی کا اشارہ ٹرمپ کو حوصلہ دے سکتا ہے کیونکہ ہیلی نے اپنی صدارتی مہم کو معطل کرنے کے بعد بھی حالیہ ریپبلکن پرائمریز میں اپنے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیےجدوجہد کی ہے۔

ہیلی نے ریپبلکن پارٹی کے پرائمری مقابلوں میں تقریباً 20 فیصد ووٹ حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، جو ٹرمپ کی مہم کے لیے ایک انتباہی علامت ہے۔

اس نے پنسلوانیا، وسکونسن اور جارجیا کی کلیدی مضافاتی کاؤنٹیوں میں دوہرے ہندسے کے ووٹ شیئرز بھی حاصل کیے۔ یہ ایسے علاقے جو انتخابات کے نتائج کا تعین کر سکتے ہیں۔

ہیلی نے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں گفتگو کے دوران کہا کہ ٹرمپ متعدد پالیسیوں پر "مثالی" ثابت نہیں ہوئے، لیکن صدر بائیڈن ایک "آفت" تھے۔ میں ٹرمپ کو ووٹ دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے معطلی کے خط میں جو کہا ہے اس پر قائم ہوں۔

اس نے مزید کہا کہ "ٹرمپ ہوشیار ہوں گے اگر وہ ان لاکھوں لوگوں تک پہنچیں جنہوں نے مجھے ووٹ دیا اور میری حمایت جاری رکھی"۔

انہوں نے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "اب یہ ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ ہماری پارٹی میں اور اس سے باہر ان لوگوں کے ووٹ حاصل کریں جنہوں نے ان کی حمایت نہیں کی‘‘۔

مارچ میں اپنی صدارتی مہم معطل کرنے کے بعد ہیلی کا یہ پہلا عوامی بیان ہے۔

’ایکسیوس‘ نے رپورٹ کیا کہ ہیلی اور ٹرمپ، ریپبلکن پارٹی کے آخری بقیہ پرائمری امیدواروں کے درمیان اب بھی سرد تعلقات ہیں۔

ہیلی کا فیصلہ بائیڈن مہم کے لیے نقصان کی نمائندگی کرتا ہے، جس نے ہیلی کے ووٹروں کو نشانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں