نیتن یاہو جلد ہی امریکی کانگریس کےمشترکہ اجلاس سےخطاب کریں گے: قائدِ ایوانِ نمائندگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریپبلکن امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو جلد ہی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ غزہ میں اسرائیلی رہنما کے جنگ سے نمٹنے کے طریقے پر صدر جو بائیڈن کے ساتھ تناؤ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیلی سفارتخانے کے سالانہ یومِ آزادی کے استقبالیہ میں کلیدی تقریر کرتے ہوئے کانگریس کے اعلیٰ ترین ریپبلکن اور ڈیموکریٹک صدر کی اسرائیل پالیسی کے ناقد جانسن نے کہا، یہ "اسرائیلی حکومت کی حمایت کا ایک مضبوط مظاہرہ ہوگا جب انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔"

اس طرح کی تقریر سے یقیناً کچھ ترقی پسند ڈیموکریٹس کو مزید غصہ آئے گا جو غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم اور اس کے لیے بائیڈن کی حمایت پر تیزی سے تنقید کر رہے ہیں۔

یہ سفارتی اجتماع بائیڈن اور نیتن یاہو کے مابین کشیدگی کے دوران ہونے والا ہے جب امریکہ کی طرف سے دباؤ ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اسرائیل مزید اقدامات کرے۔

سفارت خانے نے ڈیموکریٹک امریکی نمائندہ پیٹ ایگیولر کی تقریر کا برابر کا جواب دیا جنہوں نے غزہ جنگ کے سائے میں ہونے والی تقریب میں جانسن کے ساتھ ہائی پروفائل پلیٹ فارم کا اشتراک کیا۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کو "آہن پوش" قرار دیا۔

سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے جانسن نے اسرائیل کے حامی سامعین کی تالیوں کے جواب میں کہا: "آج رات مجھے آپ کے لیے کچھ اور اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ ہم جلد ہی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی کیپیٹل میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کریں گے۔"

یکے بعد دیگرے آنے والی امریکی انتظامیہ نے عموماً اسرائیل کے یومِ آزادی کی تقاریب میں ایک اعلیٰ سطحی اہلکار بھیجا ہے جو واشنگٹن کے شرقِ اوسط کے سب سے بڑے اتحادی کے طور پر اسرائیل کی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔

نائب صدر کملا ہیرس جنہوں نے حالیہ مہینوں میں غزہ کی صورتِ حال کو "انسانی تباہی" قرار دیا اور جنگ بندی پر زور دیا ہے، نے گذشتہ سال کا کلیدی خطاب کیا جس میں زیادہ تر اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی تعریف کی۔ ہوم لینڈ سکریٹری الیجینڈرو میئرکاس نے ایک سال پہلے تقریر کی تھی۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے اس سال کہا کہ کانگریس کی طرف سے اسرائیل کے لیے نئی امریکی فوجی امداد کی منظوری کی تعریف میں اعلیٰ سطحی تقریری کرداروں کے ساتھ سفارت خانہ قانون سازوں کو دو جماعتی انداز میں اعزاز دینا چاہتا تھا۔

یہ استقبالیہ اسی رات ہوا جب کینیا کے صدر ولیم روٹو کے لیے وائٹ ہاؤس میں ریاستی عشائیے کا اہتمام کیا گیا جس کے بارے میں اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ انتظامیہ کے سینئر اراکین کے لیے نظام الاوقات میں تصادم ہوا۔ اسرائیلی اہلکار کے مطابق انتظامیہ کے دیگر جونیئر اہلکار سفارت خانے کے مہمانوں کی فہرست میں شامل تھے۔

سپیکر کی فہرست سے بائیڈن کے سینئر معاون کی عدم موجودگی پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر وائٹ ہاؤس نے فوری جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں