اٹلی نے کئی ماہ کے تعطل کے بعد 'انروا' کے لیے فنڈنگ بحال کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹلی کے وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے ہفتہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے امدادی ایجنسی 'انروا' کے لیے اپنی فنڈنگ کو بحال کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعلان فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔

اٹلی نے 'انروا' کے لیے فنڈنگ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے عین عروج کے دنوں میں اس وقت روکنے کا اعلان کیا تھا جب اسرائیل نے 'اونروا' کے غزہ میں کام کرنے والے 13 ہزار کارکنوں میں سے 12 پر الزام لگایا تھا کہ وہ مبینہ طور پر سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے حملے میں ملوث تھے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے تحقیقات کیے بغیر امریکہ نے فنڈ روکنے کا اعلان کیا تھا ۔بعد ازاں اٹلی، فرانس، برطانیہ سمیت کئی یورپی ملکوں نے امریکہ کی پیروی کی تھی اور فنڈز روک دیے تھے۔

اقوام متحدہ نے جب اسرائیلی الزام کی باضابطہ تحقیقات کرائیں تو وہ الزام غلط ثابت ہوئے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا اسرائیل اس سلسلے میں معقول ثبوت اور شواہد پیش نہیں کر سکا۔

تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے 'انروا' کی امداد روکنے کی وجہ سے غزہ کے لاکھوں جنگ زدہ اور بےگھر فلسطینیوں کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑا۔ کہ ایک طرف اسرائیل نے غزہ میں جانے والے امدادی سامان کو ناکہ بندی کے ذریعے روک رکھا تھا، امدادی کارکنوں پر فائرنگ اور بمباری کی جا رہی تھی اور دوسری طرف اسرائیل کی جنگ کے حامی ملکوں نے 'انروا' کے لیے امداد بھی بند کر دی تھی۔ اسی صورتحال کا بعدازاں نتیجہ غزہ میں انسانی ساختہ قحط کی صورت میں نکلا۔

تاہم اب اٹلی کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ 'اٹلی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی فنڈنگ کو بعض ضمانتوں کے ساتھ نئے سرے سے بحال کر رہا ہے کہ اٹلی کہ یہ امداد دہشت گردوں کے کام نہیں آئے گی۔ یہ بات فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کو بھی بتا دی ہے۔ '

وزیر خارجہ نے بتایا کہ 35 ملین یورو میں سے اس وقت پانچ ملین یورو دیے جا رہے ہیں۔ جبکہ 30 ملین یورو 'غزہ والوں کے لیے خوراک' کے آغاز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں