بائیڈن کی مشکل، ان کی نامزد کردہ جج نے اسرائیل کے خلاف فیصلے میں حصہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز اسرائیل کی رفح جنگ کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے عالمی عدالت کے لیے نامزد کی جانے والی امریکی جج بھی اسرائیلی جنگ کے خلاف فیصلے میں شامل ہیں۔ فیصلے میں امریکی جج کے شریک ہونے سے امریکی صدر کی مشکل بڑھ گئی۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے رفح جنگ کے بارے میں فیصلہ دینے والے پینل میں امریکی جج سارہ کلیولینڈ بھی شامل ہیں۔ انہیں صدر جو بائیڈن نے 2021 میں نامزد کیا تھا مگر وہ وہ کبھی توثیق نہ پا سکیں۔ البتہ پچھلے سال نومبر میں وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی جج منتخب ہو گئیں۔

ان کے بین ا لاقوامی عدالت انصاف کی جج بننے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سارہ کلیولینڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا وہ بین الاقوامی قانون کی محافظ ثابت ہوں گی۔

جبکہ صدر جوبائیڈن نے کہا تھا'بین الاقوامی عدالت انصاف انسانیت کے دنیا بھر میں امن کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے اہم اداروں میں سے ایک ہے۔'

لیکن اب اسرائیل کے خلاف فیصلہ انے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کیا کہتے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ ایک طرف وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے کردار کے معترف ہیں اور دوسری جانب رفح کی جنگ کے بظاہر ناقد ہیں۔ ایسے میں وہ عدالتی فیصلے کی اسرائیل کے خلاف کیسے پذیرائی کرتے ہیں۔

اس سے قبل بین ا لاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے جنگی جرائم کی بنیاد پر گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے اعلان پر امریکی صدرجوبائیڈن کافی کھل کر فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے عدالتی دائرہ اختیار کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

اس کے بعد جمعہ کے روز بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل کو رفح میں جنگ روکنے کا کہہ کر اسرائیل سے زیادہ امریکہ کے لیے چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں