روسی صدر کا ایرانی صدر کے حادثے کے بارے میں حیران کن انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر عہدیداروں کی گذشتہ اتوار کو ہیلی کاپٹر حادثے میں رحلت کے بعد روسی صدر نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔

بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی موجودگی میں منسک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوتین نے انکشاف کیا کہ ’رئیسی کے ساتھیوں نے دو روسی ہیلی کاپٹر استعمال کیے جو ان کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ اسی علاقے اور وقت میں پرواز کر رہے تھے تاہم ایرانی صدر جس ہیلی کاپٹر پر سوار تھے وہ امریکہ ساختہ تھا‘۔

کوئی مسئلہ نہیں

صدر پوتین نے کہا کہ روسی ساختہ دونوں ہیلی کاپٹر بہ حفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے دو روسی ہیلی کاپٹروں پر ایک ہی جیسے حالات میں اور ایک ہی راستے پر اپنا سفر مکمل کیا اور حقیقت میں وہ بغیر کسی پریشانی کے پہنچ گئے۔

ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کریش کی جگہ: اے ایف پی
ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کریش کی جگہ: اے ایف پی

تاہم روسی صدر ولادی میرپوتین اس کے دعوے پر بیلا روسی صدر کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ پوتین نے کہا کہ ملک کے صدر کی موت کے بعد ایران کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بیل 212

قابل ذکر ہے کہ ایرانی صدر جو کہ اپنے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر 6 افراد کے ساتھ ملک کے شمال مغرب میں واقع مشرقی آذربائیجان صوبے کے ناہموار سرحدی علاقوں میں سے ایک امریکی بیل 412 ہیلی کاپٹر میں سوار تھے کو گذشتہ اتوار کی شام حادثہ پیش آیا تھا۔

ہیلی کاپٹر مشرقی آذربائیجان صوبے کے گاؤں "اوزی" کے قرب و جوار میں ارسبران کے جنگلات کے وسط میں ایک اونچی چوٹی سے ٹکرانے کے بعد شدید دھند میں گر کر تباہ ہوگیا تھا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں