عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اسرائیل برہم ، رفح پر قبضہ کرنا ضروری ہوگیا: بن گویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیل کو غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح میں فوجی حملہ روکنے کے حکم دیا گیا تو اسرائیل شدید برہم ہوگیا۔ صہیونی حکومت نے فیصلے کو مسترد کردیا اور عالمی عدالت کے حکم پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ شدید رد عمل دیتے ہوئے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے رفح پر قبضہ کا مطالبہ کردیا۔

بن گویر نے کہا کہ ہیگ میں یہود مخالف عدالت کی طرف سے جاری کردہ غیر معمولی فیصلے کا واحد ردعمل رفح پر قبضہ کرنا، فوجی دباؤ بڑھانا اور جنگ میں مکمل فتح حاصل کرنے تک حماس کو کچلنا ہے۔

وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیل سے حماس کے خلاف جنگ روکنے کا مطالبہ کرنا اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مترادف ہے۔ جنگی کابینہ کے وزیر بینی گانٹز نے اعلان کیا کہ اسرائیل اپنی جنگ جاری رکھے گا۔ اسرائیلی یرغمالیوں کے تحفظ اور ان کی واپسی تک تحریک حماس کے خلاف یہ جنگ ضروری ہے۔

بینی گانٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی واپسی اور اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے رفح سمیت جہاں بھی اور جب بھی ضروری ہوا لڑائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل شہریوں کے زیادہ سے زیادہ ممکنہ تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق عمل کرے گا۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے بھی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رفح میں فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل نے نسل کشی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل قانون کے مطابق امدادی سامان کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینا جاری رکھے گا۔

فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو رودینہ نے رائٹرز کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ پر جامع جنگ کو روکنے کے مطالبے پر بین الاقوامی اتفاق رائے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بھی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم ان عارضی اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ خاص طور پر رفح میں فوجی آپریشن کو روکنے اور رفح کراسنگ کو کھولنے کے مطالبے کی تجدید کرتے ہیں۔

حماس نے بھی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ حماس پوری غزہ کی پٹی کو اس حکم میں شامل کرنے کا انتظار کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں