عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر امریکہ کی خاموشی کے پیچھے کیا راز ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب اور یورپی ممالک نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسرائیل پر غزہ کے جنوبی شہر رفح میں فوجی آپریشن روکنے پر زور دیا ہے تاہم عدالت کے اس فیصلے پر امریکی انتظامیہ کی خاموشی حیران کن دکھائی دیتی ہے۔

عدالت کے فیصلے پرامریکہ کی طرف سے کوئی براہ راست ٹھوس تبصرہ نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعے کی شام محض یہ کہا کہ "ہم رفح کے حوالے سے واضح اور مستقل موقف رکھتے ہیں"۔

امریکہ کے اس موقف پر عدالت کے فیصلے پر بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب میں حکام پر زور دیا گیا کہ وہ رفح پر حملے یا اس شہر میں فوجی آپریشن کو وسعت دینے سے گریز کریں۔ خاص طور پر جب وہاں پر لاکھوں لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کوئی بندوست نہیں ہو جاتا۔

درحقیقت رفح کے معاملے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ان کے بدترین مرحلے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رفح میں کارروائی کی وجہ سے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو اسلحے کی کھیپ روک دی تھی۔

پابند فیصلہ

جہاں تک یورپی یونین کے پہلے ردعمل کا تعلق ہےتو یورپی کمشنر برائے کرائسز منیجمنٹ جینز لیناریچ نے عالمی عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "فریقین پراس فیصلے کی پابندی لازم ہے" اور اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب کو اس کی تعمیل کرنی ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں