کیلیفورنیا یونیورسٹی کے فلسطین نواز احتجاجی کیمپ پر حملے میں ملوث پہلا شخص گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں فلسطینیوں کے حامی کارکنان پر حملے کے تین ہفتے بعد پولیس نے تشدد میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں پہلی مرتبہ کامیاب ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار شدہ شخص ویڈیو فوٹیج میں متأثرین کو لکڑی کی لاٹھی سے مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

یو سی ایل اے پولیس ڈیپارٹمنٹ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص، جس کی شناخت 18 سالہ ایڈن آن کے طور پر ہوئی، کو جمعرات کو بیورلی ہلز شہر سے حراست میں لیا گیا اور اس کے خلاف مہلک ہتھیار سے حملہ کرنے کے شبہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مقامی میڈیا نے اس شخص کو بیورلی ہلز ہائی سکول کا طالب علم بتایا جس کے بارے میں پولیس نے کہا کہ اس کا یو سی ایل اے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج کرنے والے کارکنان اور ان پر حملہ آور گروپ کے درمیان کیمپس میں 30 اپریل کو رات کے اواخر میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے مذکورہ شخص کی گرفتاری پہلی تھی۔

نقاب پوش حملہ آوروں نے، جنہیں یونیورسٹی کے حکام اور پولیس نے "اشتعال انگیز" قرار دیا ہے، احتجاجی مقام پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا جس سے شدید جھڑپ ہوئی۔ اس دوران فریقین نے ہاتھا پائی کی اور سیاہ مرچ کا سپرے ایک دوسرے پر چھڑکا۔ کیمپ کے مکینوں نے بتایا کہ ان پر آتش بازی کے پٹاخے بھی پھینکے گئے۔

یونیورسٹی کے عہدیداروں اور پولیس کو اس تصادم کا جواب دینے کے طریقے پر کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم اور دیگر کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ یکم مئی کی علی الصبح تک کم از کم تین گھنٹے تک جاری رہا اس سے پہلے کہ پولیس نے حرکت میں آکر امن بحال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں