روس اور سوڈانی فوج کے درمیان ہتھیاروں اور گولہ بارود کا سودا طے پانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے اعلیٰ جنرل نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کا روس کے ساتھ اسلحے اور گولہ بارود کے لین دین کا ایک معاہدہ جلد طے پانے والا ہے۔ جنرل یاسر العطا نے اس امر کا اظہار گزشتہ روز کیا ہے۔

جنرل یاسر نے اس معاہدے کے بارے میں بتایا کہ روس نے سوڈان سے بحیرہ احمر میں اپنے جہازوں کے لیےایندھن بھرنے کے لیے ایک فیول سٹیشن کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں سوڈان کو ہتھیاروں کے علاوہ گولہ بارود دینے کی پیش کش کی تھی۔

واضح رہے صدر عمر البشیر کے دور میں سوڈان اور روس کے درمیان ایک بحری اڈے کے حوالے سے دستخط ہو گئے تھے ، مگر بعد ازاں سوڈانی فوج نے کہہ دیا کہ وہ اس معاملے کا ابھی جائزہ لے رہی ہیں۔ تاہم بحری اڈے کی یہ ڈیل آگے نہ بڑھ سکی تھی۔

روس نے پچھلے کچھ عرصے میں افریقہ کے اس ملک کے ساتھ معاہدات کی کوشش کی ، جن میں ' ریپڈ سپورٹ فورس ' کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ ایک طرح سے پیرا ملٹری فورس کا ایک شعبہ ہے، لیکن سودانی فوج پیرا ملٹری فورسز یا کسی بھی متوان فوجی شعبے کو اپنے مخالف کے طور پر دیکھتی ہے۔

مغربی ملکوں کا بھی اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ درحقیقت روس کی نجی آرمی کے طور پر کام کرنے والے ویگنر پرائیویٹ سے متعلق سرگرمی ہو سکتی ہے۔
سوڈان کی باقاعدہ فوج، جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیر قیادت ملک کی پیرا ملٹری فورسز کے خلاف خانہ جنگی جیسے ماحول سے دوچار ہے۔ اس خانہ جنگی میں 15000 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ خانہ جنگی کے اثرات دارالحکومت دارفور کے مغرب میں زیادہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں