ٹورنٹو میں یہودی سکولوں اور عبادت گاہوں کے سخت حفاظتی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پولیس نے یہودی سکولوں اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس خوف سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے جو ہفتہ کو صبح 5 بجے یہودی لڑکیوں کے ایک سکول پر کار سواروں کی فائرنگ سے پھیل گیا تھا۔

5 بجے صبح کے وقت کی وجہ سے سکول میں طالبات موجود نہیں تھیں۔ اس لیے کوئی زخمی نہیں ہوا، تاہم سکول کے سامنے والے حصے کو ہلکا نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے انسپکٹر پال کراوچک نے اس سلسلے میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'ہفتہ کی صبح 5 بجے سے پہلے ایک گہرے رنگ کی گاڑی سکول کے سامنے آئی اور فائرنگ کر کے چلی گئی۔ جس سے سکول کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کمیونٹی میں تشویش اور خوف پیدا ہو سکتا ہے۔'

انسپکٹر نے کہا 'ہم کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہاں کیا ہوا اور فائرنگ کا ہدف کیا تھا۔ اس کے باوجود صرف اندازے لگانا غلط ہوگا۔'

انٹاریو کے پریمئر ڈگ فورڈ نے اس واقعے کو یہود دشمنی ہی قرار دیا ہے۔ ڈگ فورڈ کے مطابق 'یہ ناقابل یقین ہے کہ کوئی شخص اس قدر نفرت کو ابھار سکتا ہے۔'

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس واقعے پر کہا 'شمالی یارک میں یہودی ایلیمنٹری سکول میں گولیاں چلانے کی اطلاعات قابل نفرت ہیں۔ یہ یہود دشمنی کا کام ہے۔'

واضح رہے ماہ نومبر میں کینیڈا ہی ایک اور شہر مونٹریال میں ایک یہودی سکول کو ایک ہفتے کے دوران دو بار فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اس میں بھی کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں