یمن: ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے 113 قیدیوں کو یکطرفہ رہائی دے دی۔ صلیب احمر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حمایت یافتہ یمن کے حوثیوں نے ایک سو سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ خانہ جنگی کا شکار رہنے والے یمن میں یہ رہائیاں ایک سال کے وقفے کے بعد ہوئی ہیں ، جب اپنے مخالفیں کو رہا کیا گیا ہے۔ اس امر کی اطلاع بین الاقوامی صلیب احمر کمیٹی نے اتوار کے روز دی ہے۔

یاد ہے پچھلے سال ماہ اپریل میں بھی حوثیوں اور ان کے ساتھ حالت جنگ میں رہنے والے گروپ نے دو طرفہ بنیادوں پر 800سے زائد قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ اس وقت دونوں طرف کے قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ تاہم اب حوثیوں کی طرف سے یہ 113 افراد کی رہائی یکطرفہ بنیادوں پر کی گئی ہے۔

صلیب احمر جس نے ان رہائیوں کی خبر دی اور تصدیق کی ہے اس سے قبل یمن میں موجود قیدیوں کو باقاعدگی کے ساتھ وزٹ کرتی رہی ہے تاکہ انہیں بنیادی سہولیات اور ان کے بطور قیدی حقوق سے محروم نہ کیا جاسکے ۔

صلیب احمر نے بتایا ہے کہ ان 113 قیدیوں میں سے ایک قیدی بیمار تھا اس لیے اسے اس کے آبائی قصبے میں صلیب احمر کی ایمبولینس کے ذریعے اسکے گھر تک پہنچایا گیا ہے

معلوم ہوا ہے کہ اس رہائی میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی کہ رہائی کے لیے ضروری لاجسٹکس کے انتظامات میں تاخیر بنی ہے۔

حوثیوں کے ایک ذمہ دار عبدالقادر المرتضیٰ نے کہا اب بھی قیدیوں کے دو طرفہ تبادلے کے سلسلے میں ہزاروں انتظار میں ہیں۔ یہ قیدی 2014 سے شروع ہونے والی خانہ جنگیکے دنوں سے اس حال میں ہیں۔

یمن میں صلیب احمر کے سربراہ نے کہا ہے' ہم امید کرتے ہیں کہ اس راستے سے مزید کئی قیدیوں کی رہائی بھی ممکن ہوجائے گی۔ خیال رہے یمنی خانہ جنگی کے دوران 150000 یمنی شہریوں کی ہلاکت ہوئی ، یہ کسی بھی جنگ زدہ علاقے میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تعداد اور انسانی تباہی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں