جنگ کے باوجود سوڈان میں شادیوں کے رحجان میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سوڈان میں جنگ کے دوران آئے روز لڑائیوں کی خبریں آتی ہیں مگرجنگ کے باوجود ملک میں شادی بیاہ کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

صحافی علی فارساب نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو مشرقی سوڈان کے پورٹ سوڈان میں اپنی شادی کی کہانی بتائی۔انہوں نے کہا کہ ’میری شادی انتہائی کم وقت میں ہوئی۔ لڑکی کے والد سے میری پہلی ملاقات لڑکی کا ہاتھ مانگنے سے لے کر شادی کی تقریبات کی تکمیل تک 48 گھنٹے لگے اور اس طرح چار دن کے اندر اندر شادی ہوگئی‘‘۔

اس نے وضاحت کی کہ ’میری ماں اس وقت حیران رہ گئی جب میں نے اسے دو دن بعد دلہن کو دیکھنے یا اس کے گھر والوں سے ملاقات کے بغیر شادی کرنے کے اپنے ارادے کے بارے میں بتایا۔ تاہم، چیزیں بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سے طے ہوتی چلی گئیں‘‘۔

فارساب نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "ایک سال سے زیادہ جنگ کے بعد میں نے جو مصائب دیکھے اس نے مجھے روایتی شادی کے خیال کوترک کرنے پرمجبور کیا اور شادی کو انتہائی سادگی سے منایا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جنگ کے ماحول کے باوجود رشتہ داروں اور دوستوں نے ہماری تقریب میں شرکت کی اور مبارکباد پیش کی۔ ہم مشکل حالات میں بھی خوشی اور شادی کا جشن منانا چاہتے تھے مگرہم نے ملک کے حالات کو دیکھ کر سادی اختیار کی"۔

شادیوں کی لہر

سوڈان میں عدلیہ کے معتبر ذرائع نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ملک بھر میں شادیوں کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پورٹ سوڈان شہر جو کہ عارضی دارالحکومت کا درجہ رکھتا ہے میں گذشتہ سال اپریل کے وسط میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اوسطاً کم از کم 3000 شادیاں ہو چکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے مختلف ریاستوں میں متعدد قانونی حکام کے ساتھ کیے گئے ایک سروے میں سب نے بتایا کہ شادی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قانونی ماہرین نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر صرف ایک ماہ میں پورٹ سوڈان شہر میں 400 شادیوں کا اندراج کیا‘‘۔

سروے میں شامل عہدیداروں نے اس اضافے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ جن میں خاص طور پر شادی کے اخراجات میں کمی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان جوسوڈان میں شادی کے لیے اپنے والدین کی مشکل حالات کی وجہ سے پریشان تھے،ان حالات سے بچنے اور کم خرچ پر شادی کی تقریبات کو مکمل کرنے کے لیے موجودہ حالات کو موقع سمجھتے ہیں۔

ایک نئی حقیقت

جنگ کے ادوار کے دوران کئی وجوہات ہیں جنہیں نوجوانوں کی شادی کے لیےاہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ سوڈان میں ماہرعمرانیات ڈاکٹراسماء جمعہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہ وجوہات انفرادی، ثقافتی اور سماجی حالات کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہیں۔ جنگ ایک نئی حقیقت اورنئے حالات کوجنم دیتی ہے جو نوجوانوں کے خوابوں اور خیالات کو بدل دیتے ہیں خاص طور پر ان کے جوش و جذبے میں اضافہ کرتے ہیں‘‘۔

جنگ کے دوران شادی کی سب سے نمایاں وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ شادی باہمی تعاون اور تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ شادی روزمرہ کی مشکلات کا سامنا کرنے میں تعاون اور باہمی مدد کے موقع کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔

اس کے علاوہ شادی نوجوانوں کو نئی زندگی بنانے اور چیلنجوں کے باوجود اپنے خوابوں کوشرمندہ تعبیر کرنے کے لیےامید اور عزم فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح کچھ نوجوان ایسے ہیں جو ایک نیا خاندان قائم کرنا چاہتے ہیں اور وہ جنگی حالات میں اس مقصد کوحاصل کرنے کا موقع پا سکتے ہیں۔

اہل خانہ سے اپیل

مصر میں ایک سوڈانی موسیقار اور کنسرٹ کے منتظم الشافعی شیخ ادریس کا کہنا ہے کہ "درحقیقت مصر میں رہنے والے سوڈانی باشندوں کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنگ لوگوں کے معمولات زندگی متاثرنہیں کرسکی۔ شادی بیاہ کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں "۔ مثال کے طور پرمصرمیں بہت سے سوڈانی خاندان ہیں جو سادگی اور بچت کی طرف بڑھے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کم خرچ پر شادی کی تقریبات مکمل کرنے کی اجازت ملی ہے۔

الشافعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید کہا کہ "طریقہ کارکو آسان بنانے میں قاہرہ میں سوڈانی سفارت خانے کے کردار کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ اس نے قاہرہ میں سیدہ زینب کے علاقے میں سوڈان ہاؤس میں شادیوں کے لیے جگہ مختص کی ہے۔ یہ طریقہ کار اب سوڈان ہاؤس میں ہو رہا ہے، جہاں قونصلر سیکشن کا ایک اہلکار تفصیلات مکمل کرتا ہے۔ انہوں نے اندر اور باہر سوڈانی خاندانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے شادی کے معاملات میں سہولت فراہم کریں تاکہ وہ اپنے آدھےایمان کو مکمل کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں