غزہ میں شہریوں کے خلاف تشدد کا ’اب کوئی جواز نہیں‘: اٹلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹلی نے پیر کے روز کہا کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ اسرائیل کی فوجی مہم کے خلاف یہ روم کی طرف سے اب تک کی سخت ترین تنقیدوں میں سے ایک ہے۔

وزیرِ دفاع گائیڈو کروسیٹو نے سکائی ٹی جی 24 ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا، "ایک مشکل صورتِ حال بڑھتی جا رہی ہے جس میں معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی پرواہ کیے بغیر فلسطینی عوام کو دبایا جا رہا ہے جن کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مزید جائز قرار نہیں دیا جا سکتا"۔

نیز انہوں نے کہا، "ہم مایوسی کے ساتھ یہ صورتِ حال دیکھ رہے ہیں۔"

غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 35 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اسرائیل نے کہا کہ اس حملے کا نشانہ حماس کا ایک احاطہ تھا حالانکہ اس کے اعلیٰ فوجی پراسیکیوٹر نے اسے "بہت زیادہ سنگین" قرار دیا اور فوج کی طرف سے غیر مسلح افراد کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

کروسیٹو نے کہا کہ اٹلی نے سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیلی کمیونٹیز پر حملے کے جواب میں اسرائیلی ردِعمل سے اصولی طور پر اتفاق کیا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ گروپ اور فلسطینی عوام کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔

ہفتے کے روز اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے روم میں فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے جنگ بندی کی حمایت کا اعادہ کیا اور حماس پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے۔

اٹلی نے بارہا کہا ہے کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ گذشتہ ہفتے روم نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کا اسرائیلی رہنماؤں کے لیے وارنٹ گرفتاری طلب کرنے کا فیصلہ "ناقابلِ قبول" تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں