پاپوا نیو گِنی میں ہزاروں افراد کا مٹی کے تودوں تلے زندہ دب کر ہلاکت کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی بحرالکاہل کے ایک جزیرے پر واقع ملک پاپوا نیو گِنی کی حکومت نے کہا ہے کہ خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دو ہزار سے زیادہ افراد ملبے تلے ’زندہ‘ دب گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پیر کو پاپوا نیو گِنی کی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔ حکومتی اعداد وشمار اقوام متحدہ کے اعدادوشمار سے تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مشن (آئی او ایم) کے سربراہ سرہان اکٹوپراک نے کہا کہ ہلاکتوں کی نظر ثانی شدہ تعداد کا تخمینہ بڑھا کر 670 کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا تھا کہ یہ اندازہ یمبلی گاؤں اور انگا کے صوبائی حکام کے اندازوں پر مبنی ہے۔ نئے تخمینے کے مطابق جمعہ 24 مئی کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 150 سے زائد گھر ملبے تلے دب گئے ہیں۔ گذشتہ تخمینہ 60 گھروں کا تھا۔ اکٹوپراک نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ''ان کا اندازہ ہے کہ اس وقت 670 سے زائد افراد مٹی کے نیچے ہیں۔

پاپوا نیو گِنی کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے ایک خط میں اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ ’لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دو ہزار سے زیادہ افراد زندہ دب گئے ہیں اور عمارتوں اور زرعی زمین کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔‘

ملک میں آئی او ایم کے سربراہ سرہان اکٹوپریک کے مطابق اس آفت کے نتیجے میں ملک کے شمالی پہاڑی صوبے انگا میں یمبالی نامی گاؤں مٹی کی چھ سے آٹھ میٹر تہہ تلے دب گیا ہے۔
آئی او ایم کے اندازے کے مطابق کم از کم 150 گھر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئے ہیں جن کے مکینوں کے زندہ بچنے کے امکانات اب بہت محدود رہ گئے ہیں۔

 پاپوا نیو گِنی کے چیمبو صوبے میں 19 مارچ 2024 کو کمائن سٹیشن کے قریب ہونے والی لینڈ سلائنڈنگ کے بعد مقامی افراد تودے گرنے سے متاثر ہونے والی سڑک پر کھڑے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
پاپوا نیو گِنی کے چیمبو صوبے میں 19 مارچ 2024 کو کمائن سٹیشن کے قریب ہونے والی لینڈ سلائنڈنگ کے بعد مقامی افراد تودے گرنے سے متاثر ہونے والی سڑک پر کھڑے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی

پاپوا نیو گِنی میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقے میں مواصلاتی نظام اور سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ہنگامی امدادی اقدامات کے لیے سرکاری محکموں، پولیس، افواج اور اقوام متحدہ کے اداروں پر مشتمل ٹیم بنا دی گئی ہے جو خوراک، پناہ اور طبی ساز و سامان کے حوالے سے بنیادی ضروریات کا تعین کر رہی ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اس علاقے میں تقریباً ایک ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سرہان اکٹوپریک کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن لوگوں کی تلاش کے لیے بیلچوں اور لاٹھیوں سمیت ہر دستیاب شے سے کام لے رہے ہیں۔ انگا صوبے کو جانے والی واحد سڑک کے بڑے حصے پر پہاڑی تودہ گرا ہے جس کے بعد جائے حادثہ تک رسائی آسان نہیں۔

ادھر ہنگامی امدادی کارکن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء پاپوا نیو گِنی کی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اسے باضابطہ طور پر مزید بین الاقوامی حمایت کی درخواست کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ اور آسٹریلیا، جو قریبی ہمسایہ اور پاپوا نیو گنی میں غیر ملکی امداد فراہم کرنے والے بڑے ممالک ہیں، امدادی کاموں میں مدد کی پیشکش کر چکے ہیں۔ پاپوا نیو گنی ایک متنوع، ترقی پذیر ملک ہے جس میں 800 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دس ملین آبادی والے اس ملک میں زیادہ تر افراد کھیتی باڑی پر گزر بسر کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں