یورپی یونین رفح کراسنگ پر بہ طورمبصرواپسی کا ارادہ رکھتی ہے: اسرائیلی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے یورپی یونین کے ایک اہلکارکےحوالے سے کہا ہے کہ یورپی یونین رفح بارڈر کراسنگ پر بہ طور مانیٹر خدمات انجام دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یورپی یونین نے2007ء میں حماس کے غزہ میں اقتدار پر قبضے کے بعد اپنے مبصرین کو ہٹا دیا تھا۔

کمیشن نے رپورٹ کیا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ بات چیت کریں گے تاکہ غزہ اور مصر کو الگ کرنے والی سرحدی کراسنگ پر یونین کے مبصرین کی واپسی کی خواہش کو یقینی بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ رفح کراسنگ پراس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے۔ مئی کے اوائل میں اسرائیلی فوج نے رفح شہرمیں حماس کے خلاف آپریشن کے آغاز پر اس کراسنگ پر قبضہ کرلیا تھا۔

کارپوریشن نے یورپی اہلکار کی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے بتایا کہ "رفح کراسنگ پر سرحدی مشن کو دوبارہ فعال کرنے میں وقت لگے گا‘‘۔ اس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’’ یہ قدم رکن ممالک کی منظوری سے مشروط ہے"۔

اہلکار نے نام لیے بغیرکہا کہ ایک یورپی ملک ایسا ہے جو اس تجویز کے خلاف ہے۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل یورپی یونین نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے رفح میں اپنی عسکری سرگرمیاں فوری طور پر بند نہ کیں تو فریقین کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

سنہ 2005ء میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے جب غزہ سےانخلا کی منظوری دی تو اس وقت یورپی یونین کے مبصرین رفح بارڈر کراسنگ پر کام کر رہے تھے۔

مبصرین کا کام فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ مصر کے درمیان کراسنگ معاہدے کے مطابق تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں