فرانس میں خود کشی کا حق دینے کے قانون پر بحث شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فرانس جدید دنیا میں انقلاب کے بانی ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اپنے خنجر سے خود کشی کی باضابطہ اجازت دینے کے بل کو قانون کی شکل دینے والے مغربی ملکوں میں تہذیب حاضر میں ایک پیروکار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ بہر حال پیر کے روز سے اس کی پارلیمنٹ نے بھی اپنی مرضی سے خود کشی کا راستہ کھولنے پر بحث شروع کر دی ہے۔

اس سے پہلے اس کے اڑوس پڑوس میں کئی یورپی ملکوں میں اپنے خنجر سے خود کشی کی اجازت کا راستہ کھل چکا ہے۔ گویا جو دنیا اپنی مرضی سے جینے کی داعی رہی ہے اب اسی کو اپنی مرضی سے مرنے کی آرزو کا سامنا ہے۔

فرانس کی پارلیمنٹ میں یہ بل ایک روز قبل سے باقاعدہ بحث کے لیے سامنے آیا ہے۔ فرانس کے صدر عمانوئل میکروں اس بل کے حامی ہیں۔ بلکہ اس خود کشی بل کو جمہوری اور پارلیمانی اصطلاح میں اصلاحات کا ہی نام دے رہے ہیں۔ انہیں یقین لگ رہا ہے کہ خود کشی کی صورت میں موت کے حامیوں کے لیے ان کی یہ کاوش بہت متاثر کن رہے گی اور میکروں کو خود کشیوں کی اجازت بانٹنے کے بدلے میں دوسری بار کے لیے صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

اس بل پر بحث مکمل ہونے اور اس بل کے منظور ہونے کے بعد قانون بن جانے کی صورت میں ایک بڑی کامیابی مل جائے گی۔ اس طرح فرانس بھی سپین اور پرتگال کی صف میں شامل ہو سکے گا۔ جن کے ہاں خود کشی کے لیے کوشاں لوگوں کو معاونت اور مدد دینے کا قانون بن چکا ہے۔

اس بل پر بحث میں دو ایسے ارکان اسمبلی بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں ایک کے بھائی نے مایوس ہو کر اپنی زندگی کا خود خاتمہ کر لیا تھا۔ یہ رکن اسمبلی آج تک اس پر دل گرفتہ ہے۔ دوسرے رکن اسمبلی کی ماں نے اس کے سامنے خود کشی کی تھی۔ مگر اس ' شہزادے ' نے ماں کو روکا نہیں تھا ، بلکہ اس کا کہنا تھا میں کون ہوتا ہوں کسی کو روکنے والا۔ گویا 'اس کی جان اس کیٓ مرضی۔ '

فرانس کی وزیر صحت کیتھرین واؤٹریہن نے اسمبلی میں بل پر بحث شروع کرتے ہوئے کہا ' حکومت فرانس چاہتی ہے کہ جو لوگ اپنی زندگیوں کے اختتام پر مشکلات میں گھرے ہوں انہیں اخلاقی بنیادوں پر ریسپانس دیا جائے۔

انہوں نے کہا یہ پارلیمنٹ کے لیے خوش آئند بات ہے کہ اس اس پریشان کر دینے والے ایک انتہائی سنجیدہ ایشو کو بحث کے لیے پیش کر رہی ہے جو بعض اوقات معاشرے کے لیے اذیت کا سبب بن جاتا ہے۔ '

صدر میکروں کا اصرار ہے یہ بل ان افراد کو موت کے انتخاب کا حق دے گا جن کی بیماریاں لا علاج ہیں اور جنہیں کسی ایسی درد سے گذرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔'

فرانسیسی پارلیمان میں زیر بحث اس بل کو زندگی کے خاتمے کا یا موت میں مدد دینے کاقانون کہا جا رہا ہے۔ یعنی معاون خود کشی قانون ۔

فرانسیسی صدر نے ماہ مارچ میں اس مجوزہ قانون کے بارے میں کہا تھا ' فرانس کو اس قانون کی ضرورت ہے کیونکہ بعض لوگوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو جاتا ہے جنہیں ہم انسان ہونے کے ناطے قبول نہیں کر سکتے۔' ہم چاہتے ہیں کہ ایک فرد کی آزادی و خود مختاری کو قوم کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے۔

فرانس میں مذہبی رہنما اس بل کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کہ فرانس ایک کیتھولک عیسائیوں کی آبادی کا ملک ہے۔ اس کے علاوہ طبی شعبے کے لوگوں کی طرف سے بھی اس خود کشی قانون کی مخالفت کی جارہی ہے۔

جبکہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے زیادہ تر لوگ اس قانون کی حمایت کرتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو قدامت پسندوں کا ہی ساتھ دیں گے۔ کئی ارکان اسمبلی ذاتی تجربے اور بعض دیگر وجوہات کے سبب ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرین گے۔

خود کشی سے روکنے والا میں کون ہوں ؟

فرانس کی پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ارکان پارلیمنٹ پر ووٹ کو پارٹی لائن کے مطابق استعمال کرنے کے لیے دباؤ میں نہ لانے کا سوچا ہے۔

کمیونسٹ نظریات کے حامل ڈپٹی آندرے چیسائیگن اس قانون کے بنانے کے مخالف ہیں ، ان کے اپنے بھائی نے لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو ہلاک کر لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کی حمایت تو قتل کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔

گرین پارٹی کے نائب سینڈرین روسو نے پچھلے مہینے کہا تھا' میری ماں نے خودکشی کی تو میں وہاں تھا۔ مگرمیں اسے روکنے والا کون ہو سکتا تھا۔

واضح رہےاس قانون کے تحت خود کشی صرف وہ لوگ کر سکیں گے جو فرانس کے شہری ہوں ، یا طویل عرصے سے فرانس میں رہتےہوں، نیز یہ کہ ان کی عمر 18 سال سے کم نہ ہو۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ویلفئیر سٹیٹ کا تصور کیا ایسے لوگوں کو سہولت دینے سے قاصر ہو گیا ہے، کیا مغربی دنیا کی جدید ترین علاج گاہیں کم پڑ گئی ہیں اور کیا اولڈ ہومز کا تصور بھی ناکافی ثابت ہو کر ناکام ہو گیا ہہے۔ کھاؤ پیو خوشی مناؤ کے تصورات سے گندھا ہوا یورپ اور اس میں خوش خوراکوں کا دیس فرانس خود کوشی کا قانون بنائے گا ، حیران کن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں