اسرائیل کی غزہ میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زیادہ ’لچکدار‘ پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات سے واقف دو ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے سوموار کو قطر، مصر اور امریکہ کو غزہ میں زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کے لیے ایک سرکاری تحریری اور تازہ ترین تجویز پیش کی۔ جس سے عارضی جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

تحریری تجویز اہم ثالث ممالک قطر اور مصر کو پیش کی گئی ہے۔ موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کی طرف سے گذشتہ جمعہ کو پیرس میں ہونے والی میٹنگ کے دوران پیش کیے گئے عمومی اصولوں پر تفصیلی اور زیادہ وسیع انداز میں بات چیت کی تجویز شامل ہے‘‘۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو پیرس میں ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر بل برنز اسرائیلی موساد کے ڈائریکٹر اور قطری وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں غزہ میں قیدیوں سے متعلق مذاکرات کی بحالی کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔

لیکن حماس کے حکام نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ اگر رفح میں ’آئی ڈی ایف‘ کی کارروائی بند نہیں کی گئی یا اسرائیل جنگ ختم نہیں کرتا تو وہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔

العربیہ/الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس کو مذاکرات کی طرف واپسی کے بارے میں تحفظات ہیں کیونکہ اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اس نے ابھی تک مذاکرات کی طرف واپسی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

"زیادہ لچک ظاہر کرنے کی کوشش"

تازہ ترین اسرائیلی تجویز میں زندہ قیدیوں کی تعداد کے حوالے سے "لچکدار آمادگی" شامل ہے جنہیں معاہدے کے پہلےمرحلے میں انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں "پائیدار سکون" کے لیے حماس کے مطالبے پر بات کرنے پرآمادی کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

غزہ کے جنوب میں رفح سے (رائٹرز)
غزہ کے جنوب میں رفح سے (رائٹرز)

مذاکرات سے واقف ایک ذریعہ نے کہا کہ یہ "ایک نیا اقدام ہے اور یہ سنجیدہ ہے"۔

منگل کو قطر کے وزیراعظم دوحہ میں حماس کے نمائندوں سے ملاقات کرنا تھی جس میں انہیں اسرائیلی تجویز سے آگاہ کرنا تھا۔

رفح آپریشن نے کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا

قابل ذکر ہے کہ رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن جو مئی کے اوائل میں شروع ہوا تھا بات چیت کی کوششوں میں ایک نئی رکاوٹ بن گیا ہے۔ اتوار کے روز شہر میں عارضی خیموں سے بنائے ایک کیمپ پراسرائیلی فضائی حملے میں 45 فلسطینی شہریوں کی ہلاکت نے ایک اور پیچیدگی پیدا کی اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت مزید الجھنوں کا شکار ہوگئی ہے۔

وائٹ ہاؤس قیدیوں کے معاہدے کو جنگ بندی اور جنگ کے ممکنہ خاتمے کے واحد قابل عمل راستے کے طور پر دیکھتا ہے، جو صدارتی انتخابات سے قبل بائیڈن کے لیے ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں