الجزائر رفح میں قتلِ عام روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی کارروائی کی تجویز دے گا

قتلِ عام روکنے کے لیے ایک مختصر اور فیصلہ کن متن پیش کیا جائے گا: سفیر عمار بن جامع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر کے سفیر نے منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا کہ ان کا ملک رفح میں "قتل عام" کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کا مسودہ پیش کرے گا کیونکہ اسرائیل نے غزہ کے گنجان آباد شہر میں حماس کے مزاحمت کاروں پر حملہ کیا ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دباؤ مسترد کرتے ہوئے اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کر رہا ہے جو غزہ میں کہیں اور ہونے والی لڑائی کی وجہ سے بھاگ کر آنے والے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔

غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا کہ اتوار کو ایک اسرائیلی حملے میں بے گھر لوگوں کی خیمہ بستی میں 45 افراد جاں بحق ہو گئے جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔

الجزائر کے سفیر عمار بن جامع نے نامہ نگاروں کو بتایا، "رفح میں قتل روکنے کے لیے یہ ایک مختصر اور فیصلہ کن متن ہو گا۔"

الجزائر ہی نے اتوار کے اسرائیلی حملے کے بعد منگل کو کونسل کے فوری اجلاس کی درخواست کی تھی۔

غزہ میں شہری دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ منگل کو رفح کے مغرب میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ پر ایک اور اسرائیلی حملے میں کم از کم 21 مزید افراد ہلاک ہو گئے۔

الجزائر کے سفیر نے یہ نہیں بتایا کہ کہ انہیں قرارداد پر ووٹنگ کی کب تک امید تھی۔

اس ہفتے ووٹ کی امید ظاہر کرتے ہوئے چین کے سفیر فو کانگ نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ یہ جلد از جلد ممکن ہو سکے گا کیونکہ زندگی توازن کے ساتھ کام کرتی ہے۔"

فرانسیسی سفیر نکولس ڈی ریویر نے کونسل کے اجلاس سے پہلے کہا، "اس کونسل کے کارروائی کرنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ یہ ہنگامی صورتِ حال کا معاملہ ہے۔"

سات اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں جنگ اور پھر اسرائیل کی جانب سے انتقامی مہم شروع ہونے کے بعد سے سلامتی کونسل اس معاملے پر ایک متفقہ نکتۂ نظر تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔

غزہ میں لوگوں کے لیے انسانی امداد کی ضرورت پر مرکوز دو قراردادیں منظور کرنے کے بعد مارچ میں کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا - لیکن یہ ایک ایسی اپیل تھی جسے اسرائیل کے اہم اتحادی امریکہ نے پہلے بھی کئی بار روک دیا تھا۔

اسرائیل کے جنگ چھیڑنے اور اس میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے مایوس ہو کر واشنگٹن نے آخرِ کار ووٹنگ سے پرہیز کرتے ہوئے اس قرارداد کو منظور کرنے کی اجازت دے دی۔

لیکن وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا کہ رفح میں اسرائیل کی جارحیت بھرپور پیمانے پر ہونے والی ایسی کارروائی کے مترادف نہیں تھی جس سے صدر جو بائیڈن کی "ممنوعہ حدود" کی خلاف ورزی ہو۔ نیز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس کا اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

الجزائر کے نئے مسودہ قرارداد کے بارے میں سوال پر امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا، "ہم اس کے سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور پھر اس پر ردِعمل ظاہر کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں