رفح پر اسرائیلی حملہ، جوبائیڈن کی ' ریڈ لائن' میں ادل بدل ہوتا رہے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے رفح پر اسرائیلی حملہ روکنے کے لیے کھہنچی گئی سرخ لکیر بار بار بدلنے اور آگے پیچھے ہو رہی ہے لیکن اتوار کے روز رفح پناہ گزینوں کے خیموں پر کی گئی وحشیانہ اسرائیلی بمباری کے بعد بڑھنے والے دباؤ کے باعث جوبائیڈن کو رفح بارے موقف میں کچھ مضبوطی لانا ہو گی۔

رفح میں پناہ گزینوں کے خیموں پر بمباری کرکے اسرائیل نے عالمی سطح پر غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔۔ اسرائیل نے یہ بمباری کا واقعہ اس کے برعکس کیا جو اسے اس کا بہترین اتحادی شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید احتیاط اور اہتمام کے لیے کہتا رہاہے۔

ادھر امریکہ میں جوبائیڈن کی مشکل دوہری ہے۔ ایک جانب یونی ورسٹیوں کے طلبہ ہیں کہ مسلسل جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں اور رکنے یا تھمنے کانام نہیں لے رہے ۔ بلکہ انہوں نے اسرائیل اور اس کی جنگ کو پوری طرح بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں صدارتی انتخابات کا مرحلہ ہر آن قریب آرہا ہے ۔ یہ محض صدارتی انتخاب نہیں رہا بلکہ ایک سخت اور مشکل جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اسی لیے ماہ مئی کے شروع میں امریکہ نے محدود پیمانے پر اسرائیل کو چند ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا بھی اعلان کیا تھا ۔

جوبائیڈن کی رفح کے نام پر ریڈ لائنز کے لیے ایک شعوری اہتمام کے ساتھ ابہام رکھا گیا ہے ۔اسی سبب اسرائیل نے منگل کے روز رفح کے وسطی حصے میں بھی ٹینک داخل کر دیے ییں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے پچھلے ہفتےابہام کے اسی دفاع میں شاید کہا تھا کہ کوئی ریاضیاتی فارمولہ تو ہو نہیں سکتا ہے۔ ہم اس وقت تو یہ دیکھنے جارہے ہیں کہ رفح پر اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں اموات اور تباہی اسی طرح زیادہ رہی ہے جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ یا ایسا نہیں ہوا ہے۔

سوفن گروپ میں ڈائریکٹر ریسرچ کولن کلارک کا کہنا ہے ' اب تک کے مشاہدے اور جوبائیڈن کی دوہری مشکلات کے پیش نظر لگتا ہے کہ صدر جوبائیڈن رفح پر اسرائیلی حملے میں ' بیلنسنگ ' کا اہتمام جاری رکھیں گے۔ '

ان کے بقول جوبائیڈن رفح کے بارے میں سخت موقف کے ساتھ سامنے رہنا چاہتے ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو باور بھی اسی لہجے میں کرایا ہے۔

عملی طور پر ابھی تک امریکہ نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ اس نے رفح میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر بمباری کے بعد بچوں سمیت جلی ہوئی اور مسخ شدہ لاشوں کے خوفناک مناظر کے باوجود اپنے ارادے میں کوئی تبدیلی کی ہے۔

امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے منگل کو صحافیوں سے کہا 'لفظ المناک اس واقعے کی وضاحت کو شروع بھی نہیں کرتا۔' لیکن جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے یہ بمباری کر کے امریکی لائن کو عبور کر لی ہے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ' گویا لفظی پیرایہ آنسانی اقدار والا ہے مگر عملی صورت مفادات کے تابع ہے۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز ایک خاموش سا ردعمل دیتے ہوئے کہا ' اسرائیل کو ؛شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنی چاہے' تاہم امریکہ اب بھی اسرائیلی فوج کے ساتھ پہلے کی طرح فعال طریقے سے ' انوالو' ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا ہوا ہے۔' جس واقعے پر پوری دنیا چیخ رہی ہے امریکہ ابھی اس کے بارے میں جانکاری کی کوشش کے لیے اسرائیل سے مدد چاہتا ہے۔

لیکن بین الاقوامی سطح پر خود ساختہ صہیونی بائیڈن پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جو سات اکتوبر کے حماس کے حملے سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے گہرے اختلافات کے باوجود نیتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں عالمی منظر نامے میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جس بین الاقوامی عدالت انصاف کے امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی رکن ہیں، اس کے رفح جنگ روکنے کے حکم کے بعد امریکہ کب تک رفح پر اسرائیلی حملے کو برداشت کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے خلاف مظاہروں نے پورے امریکہ میں یونیورسٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جب کہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے بہت سے لوگ بھی جوبائیڈن کے موقف کی مخالفت کرتے ہیں۔

البتہ ریپبلکنز نے صدر جوبائیڈن کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ان کی اسرائیل کے لیے ان کی کمزور حمایت ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے نیتن یاہو کو کانگریس سے خطاب کرنے کی دعوت دی ہے۔

کولن کلارک نے مزید کہا 'میرے خیال میں جوبائیڈن رفح کا اسرائیلی محاصرہ ختم کرانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ فلسطینی عوام کےحقیقی طور پر ہمدردی رکھتے ہیں۔ 'لیکن کیا ایسا واقعی ہو سکے گا؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں