صدر شی کی میزبانی میں عرب رہنماؤں کا اہم اجلاس جمعرات سے شروع ،غزہ جنگ اہم ترین موضوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کی میزبانی میں عرب ملکوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے لیے عرب قائدین بیجنگ پہنچ گئے ہیں ۔ جہاں بدھ کے روز سے چین ان کی میزبانی شروع کر چکا ہے۔ جمعرات کے روز عرب ملکوں کے اس اجلاس کے افتتاحی سیشن سے چین کے صدر شی خطاب کریں گے۔

اجلاس کا مقصد چین اور عرب دنیا کے درمیان اسرائیل اور حماس تنازعے کے حوالے سے ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تاکہ فلسطینی تنازعہ کو حل کرنے میں کردار ادا کیا جا سکے۔

چین حالیہ کچھ برسوں سے مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ توجہ دیے ہوئے ہے۔ چین نے اس سلسلے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی 'نارملائزیشن' میں بھی غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں کئی برسوں کے بعد سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز سے شروع ہونے والے چین و عرب اجلاس کا سب سے اہم موضوع اسرائیل اور فلسطین کا جاری تنازعہ ہے۔ چین تاریخی طور پر فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے اور مسئلہ کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

پچھلے ماہ چین نے حریف فلسطینی گروپوں حماس اور الفتح کو اپنی میزبانی میں مشاورت کے لیے جمع کیا تھا۔

صدر شی نے بدھ کے روز مصری ہم منصب کے ساتھ ملاقات کی ہے اور غزہ جنگ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'غزہ کی صورتحال کی وجہ سے وہ سخت تکلیف میں ہیں۔'

جمعرات کے روز سے شروع ہونے والے اجلاس میں صدر عبدالفتاح السیسیی کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ساتھ دیگر کئی عرب رہنما اور اعلیٰ سفارتکار بھی شرکت کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں