غزہ میں ’دہشت‘ اور مصائب کا سلسلہ ہرصورت بند ہونا چاہیے: گوٹیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اتوار کے روز رفح میں بے گھر افراد کی خیمہ بستی پر اسرائیلی فوج کی بمباری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے غزہ میں دہشت اور مصائب کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

گوٹیرس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے وضاحت کی کہ "اسرائیلی حکام کو ضرورت مندوں تک انسانی امداد کی فوری، محفوظ اور بلا روک ٹوک ترسیل کی اجازت کی سہولت فراہم کرنی چاہیے اور تمام کراسنگ کو کھولنا چاہیے"۔

مزید21 شہری ہلاک

گذشتہ روز جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح شہر کے مغرب میں بے گھر لوگوں کے کیمپ پر اسرائیلی حملے میں مزید کم از کم 21 افراد مارے گئے۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی رفح میں اسرائیلی بمباری میں مزید 21 افراد ہلاک اور 64 زخمی ہوئے، جن میں 10 کی حالت"انتہائی تشویشناک" ہے۔

دوسری طرف حماس نےاس واقعے کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کا تازہ "قتل عام" قرار دیا۔

رفح پر اسرائیلی حملے کے بعد کا منظر
رفح پر اسرائیلی حملے کے بعد کا منظر

اتوار کے روز ایک اسرائیلی حملے نے رفح میں بے گھر لوگوں سے بھرے ایک کیمپ کو آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جب کہ اسرائیلی حملے نے عالمی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا۔

اسرائیل کا انوکھا دعویٰ

منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے زور دے کر کہا کہ صرف فضائی حملہ ہی مہلک آگ کا سبب نہیں بن سکتا۔

انہوں نے کہا کہ صرف ہمارا گولہ بارود اس سائز کی آگ نہیں لگا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے 17 کلو گرام "دھماکہ خیز مواد" لے جانے والے دو پروجیکٹائل ایک جگہ پر پھینکے جس نے حماس کے دو سینئر رہ نماؤں کو نشانہ بنایا۔

ایک ملین بے گھر افراد

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ اسرائیل کے انخلا کے احکامات کے بعد تقریباً 10 لاکھ شہری رفح شہر سے بے گھر ہوئے ہیں۔

مئی کے اوائل میں رفح میں اپنی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی افواج نے مصر کے ساتھ رفح سرحدی کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر تباہ کن بمباری کی مہم سات اکتوبر 2023ء سے جاری ہے جس میں زمینی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اس جنگ میں حماس کی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 36,096 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں