قاسم سلیمانی ایک ڈکٹیٹربن چکا تھا،اسے راستے سے ہٹانا ضروری تھا: جنرل میک کینزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جنوری 2020ء کے اوائل میں بغداد کے ہوائی اڈے پر امریکی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے چار سال بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس وقت کے کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے اس آپریشن کے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

اپنی کتاب "دی میلٹنگ پوائنٹ" میں میک کینزی نے وضاحت کی کہ جب سے انہوں نے مارچ 2019ء میں قیادت سنبھالی ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا سلیمانی کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس پر ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟۔

اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی

انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ برسوں میں مشہور ہونے والے ایرانی رہ نما کی حرکات کا امریکیوں کو ہر بار عراق کے دورے پر پہلے سے علم ہوتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ بغداد کے ہوائی اڈے پر اترتے تھے۔

مزید برآں انہوں نے وضاحت کی کہ سلیمانی کے دمشق سے بغداد کی طرف روانہ ہونے سے 36 گھنٹے قبل امریکی انٹیلی جنس کو معلوم تھا کہ انہیں کون سا طیارہ لے جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ جیسے جیسے سلیمانی کی شہرت بڑھتی گئی اس کی ’انا‘ میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔

اٹلانٹک اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈر جس نے اس حملے کی نگرانی کی تھی نے مزید کہا کہ قاسم سلیمانی "ایک ’آمر‘ بن گیا تھا اور اس نے بہت سے معاملات میں ایرانی انٹیلی جنس، فوج، یا پاسداران انقلاب سے مشورہ کیے بغیر پورے خطے میں کام کیا"۔

جنرل میک کینزی نے زور دے کر کہا کہ سلیمانی نے "عراق میں امریکی افواج کی واپسی کی ذہانت سے حمایت کی، جس نے امریکہ کو داعش کو شکست دینے کا تھکا دینے والا اور بھاری کام کرنے پر آمادہ کیا"۔

پھراس نے امریکی اور اتحادی افواج کے ارکان کو مارنے اور نشانہ بنانے کا کام کیا تاکہ انہیں عراق سے نکال دیا جائے۔

"اسے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا"

جنرل میک کینزی نے بتایا کہ سلیمانی کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ وہ یہ ماننے لگا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

یہاں تک کہ جب ان سے امریکی تعاقب کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے 2019 ء میں کہا تھا "وہ مجھے کیا ماریں گے؟"۔

قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ سے
قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ سے

سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے طور پر میک کینزی نےکہا کہ سلیمانی کے قتل نے ایرانی رہ نماؤں کو مجبور کیا کہ وہ امریکی افواج کے خلاف اپنے مہینوں سے جاری کشیدگی کا دوبارہ حساب کریں۔

اہم سبق

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلیمانی کے آپریشن نے ایک سخت سبق دیا کہ تہران امریکی طاقت کا احترام کرتا ہے اور ڈیٹرنس کا جواب دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکی طاقت کم ہوتی ہے تو ایران آگے بڑھتا ہے۔

سلیمانی کو امریکہ اور ایران کے تعلقات کی جدید تاریخ میں ایک مرکزی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ 30 سال کے دوران وہ پاسداران انقلاب (IRGC) )کا ایک اہم چہرہ بن گئے، جسے ایرانی مسلح افواج کی ایک آزاد شاخ سمجھا جاتا ہے۔

مقتول رہ نما نے 1979ء میں صدام حسین کے ایران پر حملے سے ایک اسل قبل پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی۔

اس کے بعد ہونے والی جنگ میں سلیمانی نے ایک طاقتور لیڈر کے طور پر شہرت حاصل کی۔ وہ بیس کی دہائی میں ہی ڈویژن کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔

سنہ 1997ء اور 1998ء کے درمیان سلیمانی قدس فورس کے کمانڈر بن گئے۔ یہ پاسداران انقلاب کے اندر ایک ایلیٹ گروپ ہے جس کی غیر روایتی کارروائیاں ایرانی سرحدوں سے باہر مرکوز ہیں۔

سلیمانی قدس فورس کی ترقی میں ایک ناگزیر رہ نما تھے، کیونکہ انہوں نے خطے میں اپنے ملک کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے عربی زبان میں اپنی روانی کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

قاسم سلیمانی
قاسم سلیمانی

وہ ایرانی رہبر علی خامنہ ای سے بھی براہ راست رابطے میں تھے اور یہاں تک کہ ان کے لیے بیٹے کی طرح بن گئے۔ اس کے بعد انہیں 2011ء میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ 2014ء تک وہ "ایران میں ہیرو" بن چکے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ سلیمانی کو جنوری 2020ء میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس حملے کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ تہران نے انتقام کی دھمکی دی، لیکن اس وقت اس کا ردعمل کچھ میزائلوں کو امریکی اڈے کی طرف داغنے تک محدود رہا جس میں کچھ امریکی فوجیوں کو معمولی چوٹیں آئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں