لندن کے ویسٹ منسٹر میں فلسطینی حامی مارچ میں 40 افراد گرفتار، تین پولیس اہلکار زخمی

یہ مظاہرہ فلسطینیوں کی خیمہ بستی پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کا ردِ عمل تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

میٹرو پولیٹن پولیس نے بدھ کے اوائل میں ایک بیان میں کہا کہ لندن کے ویسٹ منسٹر میں فلسطینیوں کے حامی مظاہرے کے دوران 40 افراد کو گرفتار کیا گیا جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک خاتون پولیس اہلکار اس وقت شدید زخمی ہو گئی جب اسے ہجوم کے اندر سے پھینکی گئی بوتل سے چوٹ آئی۔ بیان میں مزید کہا گیا، بوتل پھینکنے والے مشتبہ شخص کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی اور فی الحال تفتیش جاری ہے۔

دیگر دو اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔

فلسطین یکجہتی مہم اور دیگر گروپوں کے زیرِ اہتمام یہ احتجاج شام چھ بجے سے وائٹ ہال میں ہوا۔

نقل مکانی کرنے والے افراد کی رفح کے باہر واقع خیمہ بستی پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد عالمی غم و غصے میں بہت اضافہ ہوا ہے جس میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کی زد میں آ کر کم از کم 45 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

جنوبی غزہ کے شہر پر اسرائیلی حملے کی آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں سیاہ لاشیں، سربریدہ بچے، سوختگی اور خون ریزی اور درجنوں افراد کو ہسپتال لے جاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مظاہرین کو رات آٹھ بجے تک رکنے کی اجازت دی گئی۔ البتہ تقریباً 500 افراد کا ایک گروپ باقی رہا اور احتجاج جاری رکھا جس سے "قواعد کی خلاف ورزی ہوئی"۔

پولیس نے کہا، "قواعد کی تعمیل کرنے میں ناکامی پر متعدد گرفتاریاں کرنے سے پہلے افسران نے بڑے پیمانے پر مخالفت کا سامنا کیا۔ جب وہ ہجوم میں داخل ہوئے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے جسمانی طور پر مزاحمت کی جس کی وجہ سے افسران کو گرفتار شدہ افراد کو نکالنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔"

بیان کے مطابق کئی لوگ اچانک ایک الگ مارچ پر روانہ ہو گئے جس کی بنا پر افسران نے "پبلک آرڈر ایکٹ کی شرائط کی خلاف ورزی، ہائی وے میں رکاوٹ پیدا کرنے اور ہنگامی کارکنان پر حملوں سمیت جرائم کے لیے" کُل 40 افراد کو گرفتار کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں