اقوام متحدہ کا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو خراج عقیدت، ’امریکہ بائیکاٹ کرے گا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ اقوام متحدہ کی جانب سے آج جمعرات کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تعزیتی تقریب کا بائیکاٹ کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 193رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی روایتی طور پر کسی بھی عالمی رہنما کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نشست کا اہتمام کرتی ہے جو اپنی موت کے وقت ریاست کے سربراہ کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم کسی بھی حیثیت میں اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔‘ اس سے پہلے امریکی بائیکاٹ کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کو ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے نہ کہ ان کے عشروں پرانے جابر کی یاد میں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’رئیسی 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل سمیت انسانی حقوق کی بے شمار، ہولناک خلاف ورزیوں میں ملوث تھے۔‘

امریکی عہدیدار کے مطابق انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں سے کچھ خاص طور پر ایران کی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف، ان کے دور حکومت میں ہوئیں۔‘

63 سالہ ایرانی صدر اتوار کو اپنے وزیر خارجہ اور دوسرے چھ افراد کے ساتھ اس وقت جاں بحق ہو گئے تھے جب آذربائیجان کے سرحدی علاقے میں ایک ڈیم کے افتتاح کے بعد شمال مغربی پہاڑی علاقے میں ان کا ہیلی کاپٹر کریش ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں