امریکی ائیرلائنز : نسلی بنیاد پرجہاز سے اتارے گئے سیاہ فام مسافروں نے مقدمہ دائرکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ائیر لائنز کے مسافر طیارے سے محض اس لیے تین مسافروں کو اتار دیا گیا تھا کہ وہ نسلی طور پر سیاہ فام ہیں اور ان میں سے ایک سے ایک سفید فام نے بدبو آنے کی شکایت کی تھی۔ ان آٹھ سیاہ فاموں میں سے تین نے بدھ کے روز مذکورہ ائیر لائنز پر مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ انہیں نسل پرستانہ بنیادوں پر امتیاز، توہین اور نفرت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

خیال رہے ان سیاہ فام شہریوں کے ساتھ یہ بدسلوکی کا معاملہ ماہ جنوری میں پیش آیا تھا۔انہوں نے اب اپنے وکیل کے ساتھ مشورے کے بعد فضائی کمپنی کے خلاف مقدمہ نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں دائر کیا ہے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں انتظار کرایا گیا حتی کہ طیارہ پرواز بھر گیا۔ جبکہ دوسرے پانچ سیاہ فام شہریوں کو بھی جہاز سے اترنے کا حکم دے دیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کسی ایک سفید فام مسافر نے ایک سیاہ فام سے بد بو انے کی شکائت کی تھی۔ جس کو بنیاد بنا کر ائیر لائنز کے عملے نے الگ الگ نشستوں پر ہونے کے باوجود اترنے کا کہہ دیا تھا۔

ان دعوی دائر کرنے والے تینوں سیاہ فاموں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کو جانتے تک نہ تھے ،مگر تینوں کو ایک جیسے سلوک کا سامنا کر پڑا تھا۔

جب انہیں جہاز سے اترنے کا کہا گیا تو انہوں نے یہ اظہار بھی کیا تھا کہ وہ محض نسلی امتیاز کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔

تاہم جب جہاز چلا گیا تو ائیر لائینز نے انہیں اگلے فلائٹ میں سیٹ دینے کا کہا ۔ اس کے باوجود کہ اس روز ان کی منزل کے لیے کوئی دوسری فلائٹ سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔

امریکی ائیر لائنز نے اس بارے میں اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کمپنی اس شکایت کا جائزہ لے رہی ہے۔ ویسے یہ شکایت ہماری کمپنی اقدار کے خلاف ہے۔

سوسان ہوٹا جو اس کیس میں اٹارنی ہیں نے کہا اگر کسی ایک مسافر سے بد بو ارہی تھی تو آٹھ مسافروں کو جہاز کے سفر سے محروم رہنے کا کیا جواز تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں